مافیا آزاد اور ہم سے حاضریاں لگوائی جا رہی ہیں ‘ احسن اقبال

55

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ مافیا آزاد اور ہم سے حاضریاں لگوائی جا رہی ہیں ، مجھے اچھے کام کرنے کی سزا دی جا رہی ہے، ہم نے گھر جلا کے سیاست کی ہے ۔ نارووال اسپورٹس سٹی کیس میں احتساب عدالت میں پیشی کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کہا کہ حکومت اور نیب کی بدنیتی دیکھیں گوجرانوالہ سے ایسی انکوائری منتقل کی گئی جس میں نہ میں ملزم ہوں نہ میں مطلوب ہوں، مجھے کیس میں زبردستی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہے کہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو ہراساں کرنا مقصد ہے، میرے بھائی کو جو پبلک آفس ہولڈر ہے نہ سرکاری ملازم ہے اسے بھی نیب ہراساں کر رہا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ میٹرو پنڈی منصوبے کا وہ کنٹرکٹر بھی نہیں، سب کنٹریکٹر ہے اس کو بلا کے ہراساں کیا جا رہا ہے، مقصد دبائو ڈالنا ہے۔ نون لیگی رہنما نے کہاکہ میرا نیب کو چیلنج ہے جب میں 1993 ء میں سیاست میں آیا تھا اس وقت کے میرے اثاثے جو تھے اس سے 1 روپیہ بھی زیادہ نہیں ہوا، ہم نے گھر جلا کے سیاست کی ہے سرکار کے خرچے پر سیاست نہیں کی۔ اس سے قبل اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نارووال اسپورٹس سٹی کیس کی سماعت کی، مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ کیس میں ملزم کی حاضریاں لگائی جائیں، جس پر وکیل صفائی نے احسن اقبال کی حاضری لگانے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کیسے حاضری ہو سکتی ہے۔ وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کے کیس میں احسن اقبال ملزم نہیں ہیں، جب تک ریفرنس نہ آ جائے تب تک احسن اقبال کی حاضری نہیں لگ سکتی۔ احسن اقبال نے عدالت میں کہا کہ اسپورٹس سٹی پر وزیراعظم کی ہدایت پر کام روکا گیا ہے، گزشتہ 18ماہ کے دوران نارووال اسپورٹس سٹی کو اجاڑ دیا گیا ہے، ریفرنس ان کے خلاف دائر کیا جائے جنہوں نے اسپورٹس سٹی اجاڑا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما نے کہا کہ ہماری حاضریاں لگوائی جا رہی ہیں، مافیا آزاد پھر رہا ہے، اس پر احتساب عدالت کے جج نے احسن اقبال سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے جو کچھ کہنا ہے تحریری طور پر وکیل کے ذریعے دیں۔ اس موقع پر نیب کی جانب سے سہیل عارف نے عدالت کو بتایا کہ نیب کیس میں احسن اقبال ملزم نامزد ہیں، جس پر جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کب تک نیب ریفرنس دائر کرے گا۔