پاکستان اسٹیل :ریٹائرڈملازمین کو 20ارب کے واجبات ادا کیے جائیں

298

بین الاقوامی ادارے پاکستان اسٹیل کو چلانے میں دلچسپی لے رہے ہیں اس عمل کو جلد پورا کیا جائے

پاکستان اسٹیل کے پیداواری کارخانوںکا دورہ کیا ،پیداواری صلاحیت و استعدادکی بریفنگ دی گئی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا 7واں اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد حسین طوری کا خطاب
کراچی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین ساجد حسین طوری نے کہا ہے کہ ہم حکومت کو سفارش کرتے ہیں کہ ریٹائرڈملازمین کے 20ارب کے واجبات کی ادائیگی جتنا جلد ممکن ہو کر دی جائے ،پاکستان اسٹیل کی ابتدائی بحالی کے لیے 300ملین ڈالر میں سے کم از کم 50ملین ڈالر ملنا چاہیے ، جو بین الاقوامی ادارے پاکستان اسٹیل کو چلانے میں دلچسپی لے رہے ہیں اس عمل کو جلد پورا کیا جائے،ملازمین کے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کے لیے بھی فی الفور اقدامات کیے جائیں

اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان اسٹیل سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر بریفنگ لے کر فوری اقدام کریں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا 7واں اجلاس چیئرمین کمیٹی ساجد حسین طوری کی زیر صدارت پاکستان اسٹیل کے مرکزی دفتر آپریشنز بلڈنگ میں گزشتہ روز منعقد ہوا۔ قبل ازیں اراکین قومی اسمبلی کے وفدنے پاکستان اسٹیل کے پیداواری کارخانوںکا دورہ بھی کیا جہاں انہیں کارخانوں کی صورتحال، پیداواری صلاحیت و استعداد اور مصنوعات کے حوالے سے بریف کیا گیا۔21ارکان پر مشتمل قائمہ کمیٹی کاایک وفد دو روزہ دورے پر کراچی آیا ہے جس میں وہ پاکستان اسٹیل ،پاک سوزوکی اور انڈس موٹرز کے صنعتی معاملات و کار کردگی کا جائزہ لے گا۔اجلاس میں پاکستان اسٹیل بورڈ آف ڈائریکٹر زکے چیئرمین عامرممتاز، ایڈیشنل سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار و چیف ایگزیکٹیو آفیسر شیر عالم محسودسمیت پاکستان اسٹیل کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ چیئرمین بورڈ عامرممتاز نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان اسٹیل کو درپیش مالی، تکنیکی، افرادی قوت کے چیلنجزسے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اسٹیل کی کھپت بہت زیادہ ہے جو کہ اس وقت در آمد سے پوری کی جا رہی ہے کوئی اور مل اس طرز کی پاکستان میں موجود نہیں۔ پاکستان اسٹیل کو 1ملین ٹن کی پیداواری استعداد پرچلانے کےلئے 250ملین ڈالر مالی تخمینہ لگایا گیاہے جس میں سے50ملین ڈالر اگر فی الفور مل جائیں تو پیداواری سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ وفد نے پاکستان اسٹیل کے معاملات سے متعلق مختلف سوالات بھی کیے۔بورڈ کے اراکین نے پاکستان اسٹیل کو اہم قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ حکومت اس ادارے کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔چیئرمین بورڈ عامر ممتاز نے وفد کو بتایا کہ 12بین الاقوامی فولاد ساز اداروں کی پاکستان اسٹیل کی بحالی منصوبے میں دلچسپی ہے

مختلف پیشکش اس ضمن میں آرہی ہیں جنہیں مارچ کے آخر تک حتمی شکل دی جائے گی۔انہوں نے وفد کو بتایا کہ ریٹائرڈملازمین کے واجبات کی ادائیگی ، ملازمین کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور کئی سال سے بجٹ اعلان کے مطابق تنخواہوں میں عدم اضافہ انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے جسے انتظامیہ بھی ترجیحی بنیادوں پرحل کرنا چاہتی ہے لیکن آمدن کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ہے۔ وفد نے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے لیے درکار مالی چیلنجز کو حل کرنے خصوصاً ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی
فوری ادائیگی پر زور دیا۔