چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو والدین سے ملوائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ

125

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی اوورسیز زلفی بخاری کو طلبہ کے والدین کی ملاقات کرانے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ طلبہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا ہے اور یہ بڑی عجیب بات ہے کہ باقی ممالک اپنے طلبہ کو نکال رہے ہیں، کیا ہماری اہلیت نہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ پالیسی کے معالات میں ہم مداخلت نہیں کریں گے مگر کم از کم یہ تو کر سکتے ہیں کہ طلبہ ڈائریکٹ ریاست کے ساتھ رابطہ کر سکیں اور حتمی فیصلہ ریاست پاکستان نے کرنا ہے۔

جس پر دفترخارجہ کے حکام نے کہا کہ 620 طلبہ ایک جگہ 1094 طلبہ ووہان میں موجود ہیں مگر ہم میکنزم بنا رہے ہیں کہ روزانہ دن 11 بجے ہم ملاقات کریں گے، ہر روزہم چینی سفیرسے ملاقات کرکے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 64 ہزارمریض ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے خوف ہے، پاکستان میں اب تک 24 ہزارمسافر آچکے ہیں لیکن ووہان سے نہیں آئے۔

وزارت خارجہ کے حکام نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ہم ہرطلبہ سے رابطہ کریں گے، ہمارے 2آفیسر چین کے صوبے ووہان پہنچ چکے ہیں اور وہ وہاں پرہی رہیں گے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 20 کروڑپاکستانی یہاں پرہیں ان کی حفاظت بھی ضروری ہے تاہم ریاست کہہ رہی ہے بچے ہمارے ہیں ہرلحاظ سے حفاظت کی جائے گی، وزیراعظم اورکابینہ اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔