فروخت میں کمی کے باعث آٹو سیکٹر مشکلات کا شکار

136

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 20-2019 کے ابتدائی 7 ماہ میں پاکستان میں آٹو سیکٹر کی کارکردگی مایوس کن رہی اور سالانہ بنیادوں پر گاڑیوں کی فروخت میں 44 فیصد کمی آئی۔ ٹرکوں کی فروخت میں 44.8 فیصد، بسوں کی فروخت میں 30.6 فیصد، جیپوں کی فروخت میں 49.7 فیصد، ایل سی ویز (پک اپس) میں 47.3 فیصد، فارم ٹریکٹرز میں 37.6 فیصد جبکہ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں 11 فیصد کمی آئی۔تاہم جنوری کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2019 کے 9 ہزار 987 یونٹس کے مقابلے میں گاڑیوں کی فروخت جنوری میں 1.08 فیصد اضافے کے بعد 10 ہزار 95 یونٹس تک جا پہنچی جبکہ 7 ماہ کے عرصے میں گاڑیوں کی فروخت ایک لاکھ 23 ہزار 391 یونٹس سے 69 ہزار ایک سو 92 یونٹس ہوگئی۔جنوری 2020 میں ہونڈا سوک/سٹی کی فروخت میں کافی بہتری آئی جس کی فروخت دسمبر 2019 کے 8 سو 84 یونٹس سے بڑھ کر ایک ہزار 8 سو 78 یونٹس تک پہنچ گئی لیکن ان دونوں ماڈلز کو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 66 فیصد کمی کا سامنا رہا کیونکہ گزشتہ سال 25 ہزار 810 یونٹس کے مقابلے میں مالی سال 2020 کے ابتدائی 7 ماہ میں مجموعی طور پر صرف 8 ہزار 797 یونٹس فروخت ہوئے۔مالی سال 2020 کے 7 ماہ میں ٹویوٹا کرولا کی فروخت 54 فیصد کمی کے بعد ایک ہزار 2 سو 80 یونٹس تک پہنچ گئی جبکہ دسمبر 2019 کے 2 ہزار 85 یونٹس کے مقابلے میں جنوری میں اس کی فروخت بڑھ کر 3 ہزار 445 یونٹس ہوگئی۔