مزید ٹیکس لگانے کی تیاری مگر کیوں

441

جسارت اخبار میں (7 فروری 2020) کو شائع ہونے والے ایک ادارتی نوٹ ’’مزید ٹیکس لگانے کی تیاری‘‘ پر میں مزید بات بڑھانے سے قبل چاہوں گا کہ اس نوٹ میں درج کچھ باتوں کو من و عن قارئین کے سامنے رکھوں تاکہ نہ صرف ادارتی نوٹ میں بیان کی جانے والی بات قارئین کے سامنے آ سکے بلکہ اس میں اٹھائے گئے اہم نکات کی روشنی میں اس بات کا جائزہ بھی لیا جا سکے کہ آخر تمام تر ٹیکسوں میں اضافے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد کے بڑھ جانے کے باوجود بھی ٹیکس کے وہ اہداف جس کی توقع موجودہ حکومت کر رہی تھی، حاصل کیوں نہ ہو سکے۔ ادارتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’مزید ٹیکس لگانے کے لیے آئی ایم ایف کا حکومت پاکستان کو املا (عرف عام میں ڈکٹیشن) جاری ہے۔ ملک میں محصولات جمع کرنے والا ادارہ ایف بی آر ابھی تک اپنے ہدف سے تین سو ارب روپے کم جمع کرسکا ہے اور اندیشے ہیں کہ 30 جون کو مالی سال کے خاتمے تک یہ خسارہ نو سوارب روپے سے زائد ہوجائے گا۔ حکومت پاکستان نے چونکہ ملک کا معاشی نظام آئی ایم ایف کے حوالے کردیا ہے، اس لیے حکومت پاکستان کی ٹیم آئی ایم ایف کے آگے گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی ہے اور التجا کررہی ہے کہ محاصل جمع کرنے کا ناممکن ہدف کم کیا جائے‘‘۔ موجودہ حکومت کی معاشی ٹیم اس خوش فہمی کا شکار نظر آتی ہے کہ اگر ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے یا ضرورت کی ساری اشیا کی قیمتوں کو آسمان پر چڑھا دیا جائے تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو جایا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی غلط سوچ ہے جو حکومت کے لیے ہی نہیں بلکہ ریاست کے لیے بھی بہت خطر ناک ہے جس کا اظہار اسی ادارتی نوٹ میں کچھ یوں کیا گیا ہے کہ ’’یہ بات بھی اب کوئی راز نہیں رہی ہے کہ عمرانی حکومت کے دور میں معاشی سرگرمیوں میں زبردست سکڑاؤ آیا ہے۔ جب ملک میں معاشی سرگرمیاں ہی نہیں ہوں گی تو حکومت کو محاصل کہاں سے ملیں گے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف کے کارندوں کا دباؤہے کہ ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔ درآمدات مسلسل کم ہورہی ہیں اور برآمدات پر محاصل لگائے نہیں جاسکتے کہ اس سے برآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوگا تو پھر حکومت کے پاس محاصل کہاں سے جمع ہوں گے‘‘۔ یہ بات ہے تو بہت سامنے کی لیکن یا تو یہ بات معاشی ٹیم کی سمجھ میں نہیں آرہی یا پھر کسی بہت ہی گھناؤنی منصوبہ بندی کے تحت اس نکتے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی لحاظ سے اتنا بے دست و پا کرنے کی سازش کی جارہی ہے کہ وہ دنیا کے آگے بالکل ہی منہ کے بل گرجانے پر مجبور ہو جائے۔ معاشی سر گرمیوں میں شدید کمی کی وجہ سے حکومت کے پاس اپنی آمدنی بڑھانے کا صرف ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہے کہ گیس، بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے لیکن حکومت کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان مدآت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے خود اس کے عوام کی بدحالی میں شدید اضافہ ہو جائے گا جو کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ عوام میں مشکلات کا اضافہ حکومت کی مشکلات میں نہ صرف اضافے کا سبب بنتا ہے بلکہ وہ اپنی مقبولیت عوام میں کھو بیٹھتی ہے۔ موجودہ حکومت کو ادارتی نوٹ میں اٹھائے گئے اس نکتے کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ’’گیس، بجلی اور پٹرول کی کمپنیاں کسی بھی ملک کی نہیں ہوتی ہیں بلکہ کثیر القومی کمپنیاں ہوتی ہیں جن کے حصص آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں بھی ہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف اور عالمی بینک محض مالیاتی ادارے نہیں ہیں بلکہ ان کے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں اور یہ مالیاتی ہتھیار کو اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘‘۔
بات نہایت سادہ سی ہے کہ ٹیکس دہنگان میں اضافہ کیا جائے یا ٹیکسوں میں، جب تک پیداوار اور روزگار کے موقعوں میں اضافہ نہیں ہوگا، حکومت کی آمدنی میں اضافہ کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ اشیا پر ٹیکس بڑھانے سے یہ خیال کر لینا کہ محصولات میں اضافہ ممکن ہے، ایک نہایت غلط تصور ہے۔ اس قسم کے احمقانہ اور ظالمانہ اقدامات کے دوہرے تہرے نقصانات ہیں۔ ایک تو یہ نقصان
ہے کہ افراد کی قوت خرید کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے یا تو خریداروں میں کمی ہوجاتی ہے یا پھر افراد اپنی گنجائش کے مطابق ضروری اشیا کو اس حد تک محدود کر دیتے ہیں جو ان کی کم سے کم ضرورت کو پورا کر سکے۔ دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اشیا مہنگی ہونے کی وجہ سے ان کی برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور عالمی منڈی میں ان کی مانگ کم ہوجاتی ہے اور سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ حکومتیں اپنے عوام کے اعتماد سے محروم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں جو بھی حکمران آتے ہیں وہ اقتدار میں آنے سے قبل عوام کے سامنے بہت بلند و بانگ دعوے کر کے آتے ہیں اور غریب عوام کی آنکھوں کے سامنے ایسے ایسے خواب سجا دیتے ہیں کہ ان کو سب کچھ ہرا ہرا نظر آنے لگتا ہے۔ ایسے خواب سجانے کے دو ہی مطالب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہوتے ہیں اور ساری حقیقتیں جانتے ہوئے بھی عوام کو جھوٹی امیدیں دلا کر انہیں اپنے مکر و فریب کے جال میں پھنسا رہے ہوتے ہیں یا پھر وہ اپنے تئیں خود فریبی میں مبتلا ہو کر یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ان سے پہلے کے حکمران اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں اور وہ اقتدار میں آکر ان پالیسیوں کو مثبت رنگ دے کر عوام کی خوشحالی میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
مجھے لگتا ہے کہ میرا دوسرا نکتہ نظر موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے زیادہ قریب تر ہے۔ موجودہ حکومت کے خیال میں پاکستان میں بد حالی کی اصل وجہ کرپشن اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مشن میں ان ہی دو باتوں سے انحراف اور بغاوت تھی لیکن لگتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی بدحالی کی صرف یہی دو خرابیاں اصل وجہ نہیں تھیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو ملک چلانے کے لیے فوری طور پر نہ صرف قرضے لینے پڑے بلکہ گزشتہ حکومت کی نسبت کچھ زیادہ ہی امداد حاصل کرنا پڑی۔ نیز یہ کہ کرپشن کے سارے سوراخ بند کر دینے کے باوجود بھی ملک خوشحالی کی جانب نہ بڑھ سکا۔ یہ دونوں باتیں اس بات کی غماز ہیں کہ خرابی کی اصل جڑ صرف یہی دو وجوہ نہیں تھیں بلکہ کچھ ایسے بڑے بڑے سوراخ ہی نہیں بلکہ غار ہیں جو پاکستان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کیے جارہے ہیں جن کا تلاش کیاجانا اور ان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا نہایت ضروری ہے۔ جو توقع موجودہ حکومت سے کی جارہی تھی کہ یہ حکومتی اخراجات اور شاہانہ ٹھاٹ باٹ میں کمی کرکے سادگی کی اعلیٰ مثال قائم کرے گی، اس پر بھی عوام کے اعتماد پر پورا نہیں اتر سکی۔ چند ماہ کے عرصے میں ہی وزیر اعظم، صدر، اسپیکر اور پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں تین چار گنا اضافہ کرکے اور بادشاہوں کے سے انداز میں پروٹوکول لے کر اس نے نہ صرف اپنے دعوں سے انحراف کیا بلکہ کرپشن کے آگے بند با ندھنے میں بھی سخت ناکام نظر آئی جس کا بین ثبوت ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی حالیہ رپورٹ ہے جو ایسی حکومت کے لیے جس کا دعویٰ ہی کرپشن کا خاتمہ تھا، نہایت سبکی کا باعث بنی ہے۔
ان ساری باتوں کو سامنے رکھ کر حکومت کو یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اندر چھید ہی نہیں بڑے بڑے غاروں کو تلاش کرے، عوام پر ٹیکس لگانے سے پہلے ہر قسم کی پیداروا میں اضافہ کرے، روزگار کے مواقع فراہم کرے، بجلی، گیس اور پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کے بجائے ان میں کمی واقع کرے تاکہ ایک جانب عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہو تو دوسری جانب زرعی اور صنعتی پیداوار میں لاگت کم آئے اور وہ دنیا کے دیگر ممالک سے کم قیمت برآمد ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ اگر موجودہ حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کا گراف بڑھانا چاہتی ہے تو لین دین میں مشکلات اور مہنگائی میں اضافے کے بجائے ان سب معاملات میں آسانی پیدا کرے، ترقیاتی کاموں کو وسعت دے، ہر قسم کے حکومتی اخراجات میں کمی لائے، اشیائے ضروریہ کو عوام کی پہنچ میں لانے کا سبب بنے، وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرے اور ان سب سے بڑھ کر عالمی مالیاتی اداروں سے جان چھڑائے ورنہ وہ ان کے قرضہ جات کے جال میں اس بری طرح پھنس جائے گی کہ پاکستان کی بقا و سلامتی بھی (خدانخواستہ) خطرے میں پڑ جائے گی۔