اخبارات سے وابستہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے،سید ناصر حسین شاہ

517

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)صوبائی وزیر برائے اطلاعات، بلدیات، مذہبی امور، جنگلات و جنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت صحافیوں کے مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور حکومت ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہی ہے،

انہوں نے یہ بات ہفتے کو آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے زہراہتمام پرنٹ میڈیا کے مسائل کے حوالے سے ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جس طرح ان سے پہلے سابق وزیر اطلاعات سعید غنی نے اخبارات کے مسائل کے حل کے لئے اپنی پرخلوص کاوشیں کی تھیں وہ بھی اسی طرح اخبارات سے وابستہ لوگوں کے مسائل کے حل کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے،

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگوں سے گذارش کریں گے کہ وہ حکومت کے اچھے کاموں، اچھی کارکردگی اور کارناموں کو بالکل اسی طرح سے نمایاں کرکے اپنے اخبارات میں بیان کریں جس طرح کے وہ ہماری ناکامیوں، کمزوریوں، غلطیوں یا کوتاہیوں کو نمایاں کرکے سرخیوں کی شکل میں اپنے اخبارات میں شائع کرتے ہیں،

انہوں نے کہا کہ اگر چہ کہ حکومت کو اس کے اچھے کاموں کی پذیرائی ملنی چاہئے یہ ایسا بہت کم کم ہوتا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا یہ ویثرن ہے کہ حکومت سندھ صحافیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے،

صوبائی وزیر نے کہا کے وہ چیرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے میڈیا مالکان سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ میڈیا سے وابستہ ملازمین کو بیروزگار نہ کریں۔ اوران ملازمین کا خیال رکھیں،

اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ ا ے پی این ایس کے عہدیداران اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کردیں اور یہ کہ اس کمیٹی کی جو بھی سفارشا ت ہوں گی ان پر سو فیصد عملدرآمد کیا جائے گا۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کبھی بھی پسند نا پسند کی بنیاد پر اشتہارات نہیں جاری کرتی ہے،

اخبارات کے واجبات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اسی مہینے تمام واجبات کی ادائیگی ہوجائے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی صحافت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے،

نہ صرف یہ بلکہ پی پی پی کے ہر حکومت نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا ہے اور موجودہ دور میں بھی صحافت کی آزادی اور صحافیوں کی فلاح و بہبود سندھ حکومت کی ترجیح رہے گی،

اس سے پہلے اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل سرمد علی اور دیگر عہدیداران نے صوبائی وزیر اطلاعات کو صحافیوں کے مسائل سے آگاہ کیا۔دریں اثناء صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصرحسین شاہ نے تجاوزات کو ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس سلسلے میں جو بھی احکامات ہیں ان پر من وعن عملدرآمد کیا جائے گا،

انہوں نے کہا کہ کراچی میں دیگر ممالک سے بھی لوگ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، چیف جسٹس غیر ملکی مقیم افراد کیخلاف بھی ایکشن لیں، وفاق نے آئی جی کے معاملے کو بلاوجہ متنازعہ بنا دیا ہے،امید ہے معاملہ جلد حل ہوجائے گا، سندھ کے سوا ہرصوبے میں آسانی سے پولیس سربراہ بدل جاتا ہے، کرپشن کی شکایت پر ون ونڈو آپریشن شروع کیا گیا ہے،

تجاوزات کیخلاف آپریشن جاری ہے، چیف جسٹس کے احکامات پر مکمل عمل کریں گے، جہاں خاندان آباد نہیں ان تعمیرات کو پہلے مرحلے میں گرایا جائے گا۔میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے صوبائی وزیراطلاعات ناصر شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیا جائے گا، غیر قانونی تعمیرات میں بہت سے لوگ ملوث ہیں،

چیف جسٹس نے عمارتوں کو گِرانے کاحکم دیاہے، احکامات پر عمل ہوگا، ہم چیف جسٹس کے شہر کی بہتری کے وژن کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے میں غیر قانونی تعمیرات کی شکایات سے متعلق ڈیسک بنایاہے،ایس بی سی اے میں نئے نظام کے تحت کام کیا جائے گا،عالمی بینک کا بھی اس تبدیلی میں تعاون شامل ہے،

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بہت سی قدیم آبادیوں کو ریگولرائز کیا،جوعمارتیں آباد نہیں انہیں سب سے پہلے گرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عمارتوں میں مقیم اہلِ خانہ سے ہمدردی بھی ہے، لوگوں کو بے گھر نہیں کرنا چاہتے لیکن دوسروں کی جگہوں پر قبضہ بھی صحیح نہیں ہے،

سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ جہاں لوگ رہتے ہوں وہاں لوگوں کو نہ ہٹایا جائے۔ناصر شاہ نے کہاکہ کراچی بڑا شہر ہے، مکمل تجاوزات کے خاتمے میں وقت لگے گا، کراچی میں 900سے زائد غیر قانونی تعمیرات ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ احکامات سے ہمیں آسانی ہوجائے گی، بعض اوقات حکم امتناع ہمارے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات میں کئی افراد ملوث ہوتے ہیں اور کچھ عرصہ قبل بہت اکھاڑ پچھاڑ ہوئی تھی جس میں کئی تبادلے اور تعیناتیاں کی گئیں تھیں اور ویجیلنس کمیٹی بھی بنائی گئی تھی جبکہ 900 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کو ختم کیا گیا تھا،

انہوں نے کہاکہ پہلے کام کرنے میں دوسری رکاوٹیں آجاتی تھیں مثلا نہر خیام پر ہم کام کرنا چاہتے تھے اور کچھ الاٹمنٹس کو منسوخ کیا گیا اور تجاوزات کو ہٹایا بھی گیا تو اس منصوبے پر حکم امتناع آگیا،

انہوں نے ایک اور منصوبے کا ذکر کیا جس پر حکم امتناع آیا تھا اور کہا کہ اب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم ہوجائیں گے تو اس سے ہمیں مدد ملے گی اور اس قسم کی بہت سی چیزیں ہیں جس پر عمل کیا جائے گا،

انہوں نے کہاکہ کراچی ایک بہت بڑا شہر ہے جہاں اب بھی کئی غیر قانونی تعمیرات جاری ہوں گی جس کے لیے شکایات کا ایک نظام بھی تشکیل دیا گیا تھا اور ون ونڈو آپشن بھی قائم کیا گیا ہے جسے عالمی بینک کے تعاون سے بہتر بنایا جارہا ہے،

کچی آبادی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قدیم اور کچی آبادیوں کو ریگولرائز کیا گیا ہے تاہم بلڈر کی جانب سے قبضوں کے باعث معاملات خراب ہوئے ہیں،

ماضی کے خوبصورت کراچی کی تباہی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا چیف جسٹس قابلِ احترام ہیں میں ان کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا لیکن ماضی میں کراچی کی آبادی بہت کم تھی اور صورتحال مختلف ہیں،

انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس کراچی شہر کی طرح یہاں مقیم ایسے غیر قانونی پناہ گزینوں کے حوالے سے بھی کوئی ایکشن لیں گے جن کا پاکستان سے تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ کچی آبادیاں کو بہتر بنانے کے حوالے سے جامع پروگرام تشکیل دیا جارہا ہے، جس کے لیے 2، 4 آبادیوں کو ماڈل آبادی بنایا جائے گا جس کے بعد بہتری آئیگی،

آئی جی سندھ کلیم امام کے معاملہ حل نہ ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں۔ انہوں نے کہاکہ آئی جی سندھ کے معاملے کو بلاوجہ متنازعہ بنا دیا گیاہے،جس صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی وہاں یہ مسائل پیدا نہیں ہوئے،

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پولیس کا مورال نہیں گرانا چاہتے، آئی جی سندھ کو فوری طور پر چھٹی پر چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ اور وفاق کی پوزیشن سب کو معلوم ہے کہ وعدہ کرنے کے باوجود اس معاملے کو متنازع بنا دیا گیا ہے،

انہوں نے مسئلہ جلد ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے فرق روا رکھا جارہا ہے کہ دیگر صوبوں میں فوری طور پر 4، 5 آئی جیز تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن سندھ میں نہیں ہوتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے،

وفاق کی جانب سے فنڈز روکنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا رواں مالی سال میں اب تک حکومت سندھ کو 1کھرب 35 ارب روپے کم دیے گئے جس کا واضح اثر جاری ترقیاتی منصوبوں پر پڑے گا،

ناصر حسین شاہ نے کہاکہ اگر پورے پاکستان میں آپ کو کہیں ترقیاتی کام نظر آئے گا تو وہ سندھ ہے جہاں ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور کچھ مکمل ہوچکے ہیں جن کا چیئرمین پی پی پی نے افتتاح کیا تھا،

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی 131 اسکیمز جاری ہیں، جس میں کراچی کی 17 اسکیمز ہیں جن کے آئندہ آنے والے مہینوں میں افتتاح کیے جائیں گے، جون تک یہ تمام
اسکیمز مکمل ہوجائیں گے، جبکہ 11 نئے منصوبے کراچی کے لیے تجویز کیے گئے ہیں،

انہوں نے کہاکہ معیشت کا کیا حال ہوگیا ہے یہ سب جانتے ہیں، سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی میں کرونا وائرس کی اسکریننگ کی جارہی ہے،

جناح، سول اور آغا خان میں آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں۔چین سے آنے والی پروازوں کے مسافروں کی کراچی ایئرپورٹ پر بھی اسکریننگ کی جاتی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کوئی بھی گھر یا عمارت گرانے سے پہلے اس کے مکینوں کی متبادل رہائش گاہ فراہم کی جائے،

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی آبادی اب پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔جس کی وجہ سے حکومت کو کئی مسائل کا سامنا ہے تاہم سپریم کورٹ کے احکامات حکومت کے لئے مددگار ثابت ہوں گے۔