ہے حجاب پارہ پارہ‬

204

ڈاکٹر عزیزہ انجم کراچی

چنار کے سر سبز درختوں کی وادی کشمیر لہو لہان ہے ڈل جھیل کا چمکتا شفاف پانی اپنے رہنے والوں کے خون سے سرخ ہو گیا ہے ۔جنت نظیر کشمیر کے پہاڑوں پر ظلم کا سورج آگ برسا رہا ہے ۔پھلوں اور پھلوں سے مالامال کشمیر سیبوں اوربھارتانار کی خوشبو سے مہکتا کشمیر گلاب سے خوبصورت بچوں کی کھلکھلاتی شگفتہ ہنسی سے لہکتا کشمیر اپنے سراپے کو لمبے دبیز مخملیں کوٹ سے ڈھانپے اپنے سروں پر چادر سنبھالے مجسم پاکیزگی حوا کی باعفت بیٹیاں کشمیر کی غیرت کی امین سب ظلم کا شکار ہیں ۔
آزادی کی جدوجہد کے ستر سال جبر اور ظلم کی نا ختم ہونے والی داستان بن گئے ہیں ۔وادی میں قابض بھارتی فوج سرکار کی سرپرستی میں وادی کے مکینوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ۔گھروں کو آگ لگا دینا جوانوں کو قتل یا قید کر دینا ان کا معمول ہے ۔ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے جلوس یا جلسہ پر فائرنگ دھواں گیس کا استعمال عام ہے ۔
سب سے زیادہ اور المناک ظلم کا شکار معصوم خواتین ہیں ۔کم عمر بچیاں ہوں نوعمر دوشیزائیں ہوں یا عمر رسیدہ خواتین بھارتی فوج ان کی عصمت پامال کرتی ہیں انکی عفت کی ردا پارہ پارہ کرتی ہے انکی متاع حیات لوٹتی ہے ۔اقوام متحدہ کے مبصرین ہوں یا میڈیا کے نمائندے سب اس حقیقت سے واقف ہیں ۔کبھی کبھی کوئ ویڈیو کوئ خبر سامنے آتی ہے لیکن امن عالم کے ذمہ داروں پر کوئ فرق نہیں پڑتا۔
عفت اور پاکدامنی ایک عورت کی سب سے قیمتی متاع ہے اور اس کا لٹ جانا زندگی لٹ جانے سے کہیں زیادہ المناک ہے ۔آج کی دنیا عورتوں پر ہونے والی زیادتی کے خلاف نعرے لگاتی ہے ۔عورتوں پر ہونے والے مختلف پر تشدد رویوں اور ناروا سلوک اقوام متحدہ کے اجلاس کا موضوع ہوتہے ہیں لیکن اکیسویں صدی کے اس مبینہ ظلم پر نہ کوئ موثر آواز اٹھتی ہے نہ کوئ موثر قدم اٹھایا جاتا ہے ۔
میڈیکل سائنس اور طبی نفسیات کا علم رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں عورت پر ہونے والی زیادتی طویل عرصے تک اسے ذہنی اذیت میں مبتلا رکھتی ہے اور post traumatic syndrome کا سبب بنتی ہے
آج جب پوری دینا حجاب کا دن منا رہی ہے کشمیری عورت کے پارہ پارہ حجاب اور دھجی دھجی ردائے عفت پر بھی بلند لہجے میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں خصوصا عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ذمہ داران عورتوں پر ہونے والے اس ظلم کو روکیں ۔
بھارتی فوج اور بھارت کے حکمران سیکولر ازم کا بدترین چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں ۔عورتوں کے ساتھ بدسلوکی تاریخ کا بدترین جرم ہے جس کا ارتکاب بھاتی فوج کشمیر میں کر رہی ہے ۔
اور تاریخ کے بدترین مجرم وہ حکمران ہیں جو طاقت رکھتے ہوئے اس بدترین ظلم کو نہیں روک سکے نہ ان کو اس ظلم کا احساس ہے ۔
کشمیر پر ہونے والا ہر ظلم نام نہاد ترقی کی دعویدار اس صدی کا سیاہ باب ہے اور اس سیاہی کو دور کرنے والا سورج قیامت کے انصاف کا منتظر ہے