جوڑ توڑ پاکستان کا مقدر ٹھیر چکا ہے

433

جب سے پاکستان بنا ہے اس وقت سے آج تک حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا ایسا سلسلہ چلا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی لیتا۔ پہلے پہل تو ہر آنے والا حکمران، مسلم لیگ کی ہی ٹانگیں مروڑتا رہا۔ ایوب خان نے بھی اسی لیگ کا سہارا لیا اور چاہا کہ مسلم لیگ کو عسکری حلقوں میں اس طرح ضم کر لیا جائے کہ عوام سویلین اور عسکریت کا فرق ہی بھول جائیں جب تک چھڑی میں طاقت رہی، اس کا جادو کام کرتا رہا لیکن جونہی چھڑی ہاتھ سے چھوٹی، جادو کا اثر بھی ختم ہو گیا۔ پھر اسی مسلم لیگ کی کوکھ سے عوامی لیگ نے جنم لیا اور وہ کام دکھایا کہ اپنے لیے ’’دیش‘‘ ہی الگ بنا لیا۔ اسی مسلم لیگ نے ایک اور کروٹ بھی بدلی اور یوں پی پی پی کی شکل و صورت اختیار کرکے پاکستان پر حکمرانی کے جوہر دکھائے۔ اس روپ بدلتی مسلم لیگ کو ایک مرتبہ پھر ضیا الحق نے جان ڈالنے کی کوشش کی اور محمد خان جونیجو کی قیادت میں ایک اور مسلم لیگ نے جنم لیا اور پھر یہی مسلم لیگ ترقی کرتے کرتے پی ایم ایل این بن بیٹھی اور قسمت دیکھیں کہ اس مسلم لیگ (ن) کو تین مرتبہ پاکستان میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ ہر مرتبہ جب بھی مسلم لیگ کو زندہ کیا گیا یا اس کے بطن سے نئے نئے ناموں کے ساتھ سیاسی پارٹیوں نے جنم لیا۔ اس طرح بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کی گئیں اور ہمیشہ ان کی پشت پر جادو کی چھڑی اپنا کام دکھاتی نظر آئی۔
اگر دیانتدارانہ تجزیہ کیا جائے تو پاکستان میں صحیح معنوں میں کبھی کسی حقیقی سیاسی پارٹی کو ابھرنے ہی نہیں دیا گیا اور جہاں بھی اس قسم کے کوئی آثار پائے گئے وہاں ریاست (جو ایک سوالیہ نشان ہے) نے اسے جڑیں پکڑنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ایسی پارٹیوں میں اے این پی، پی پی پی اور ایم کیو ایم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن یہ بات طے ہے کہ ان پارٹیوں کے افراد کو دھن، دولت، لالچ یا طاقت کے زور پر توڑا ضرور جاتا رہا لیکن جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے ان میں کسی دوسری پارٹی کے افراد کو کبھی شامل نہیں کیا جاسکا۔ یہ پارٹیاں کمزور ترین سطح پر ہی سہی، اب بھی ان پارٹیوں کو جو بھی ووٹ پڑتے ہیں وہ صرف اور صرف پارٹی کی بنیاد پر پڑتے ہیں کسی فرد کی پھوپھاں کی بنیاد پر نہیں پڑتے جبکہ مسلم لیگ ن ہو یا دیگر علاقائی پارٹیاں، وہاں ووٹ شخصیات کے قد وقامت پر پڑتے ہیں۔ سیاسی شخصیات کے قد وقامت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اگر وہ کسی پارٹی کا سہارا لیے بغیر بھی کھڑے ہو جائیں تب بھی جیت ان ہی کے مقدر میں لکھ دی جاتی ہے۔ ایسی شخصیات پاکستان میں چودھری، سردار، وڈیرے، ملک، جاگیردار، نواب، مل اونرز، زمیندار اور سرمایہ دار کہلایا کرتے ہیں جو اپنی طاقت سے اپنی جیت کو بہر صورت یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو کسی ایک پارٹی سے نکال کر کسی دوسری پارٹی میں لانا یا ان ساروں کی مدد سے نئی پارٹی بنانا کوئی آسان کام تو نہیں۔ ایسا کرنے کے دو ہی طریقے ہوا کرتے ہیں۔ ایک ’ڈنڈا‘ اور دوسرا ’چمک‘، کیونکہ ان شخصیات کو اپنے ’پارس‘ ہونے کا علم ہوتا ہے اس لیے یہ ’تیلی‘ کی ترازو کے صرف باٹ تو نہیں بنے رہ سکتے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ یہ خواہ ڈنڈے سے قابو میں آئیں یا چمک اپنا کام دکھا جائے، منتخب ہونے کے بعد ان کا زیادہ تر کام ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ملک کی دولت کو کسی نہ کسی بہانے لوٹنا ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ لوٹے اپنے اصل مرکز کی جانب کسی بھی وقت لوٹ سکتے ہیں اس لیے ان کو ملک کی دولت لوٹنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ کیونکہ یہ سارے کے سارے ذہین ’ترین‘ ہوتے ہیں اور ملک کے سارے وسائل ان ہی کے ہوتے ہیں اس لیے جب بھی کوئی سی بھی حکومت بنتی ہے تو چینی، آٹا، دالیں، زرعی پیداوار اور مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے الیکشن میں لگائی گئی اپنی اپنی رقموں کو مع سود ’قانونی‘ طریقے سے پورا کر لیتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے ساتھ بھی ایسا ہی مسئلہ ہے۔ یہ تو خالص ’لوٹا‘ پارٹی ہی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ گزشتہ 72 برس سے پاکستان سیاسی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ صدارتی نظام کا مطلب امریکا سے متاثر ہونا، مارشل لا کا مطلب بے شمار عرب ممالک کے تجربات (بادشاہت) اپنانا، پارلیمانی نظام کا مطلب برطانیہ اور بھارت کی نقالی اور موجودہ حکومت کا مطلب چین کی طرز حکومت کی جانب پیش قدمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ چین میں بھی یک پارٹی حکومت قائم ہے اور لگتا ہے یہی تجربہ پاکستان میں بھی کیا جارہا ہے۔
ماضی میں پاکستان کی سیاسی پارٹیاں مشکلات کا شکار ضرور رہیں اور نادیدہ قوتیں بے شک ان پر اثر انداز ہوتی رہیں لیکن پاکستان میں جیسی بھی لنگڑی لولی جمہوریت رہی وہ بہر حال کسی نہ کسی صورت میں جمہوریت ہی کہلانے کی مستحق رہی لیکن موجودہ صورت حال اس سے قطعاً مختلف ہے۔ یہ واحد حکومت ہے جس کا لایا جانا نہ صرف ایک لمبی منصوبہ بندی کا نتیجہ لگتا ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ جو مقاصد ہیں وہ چین کی طرح ’یک پارٹی‘ حکومت کا قیام ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ الیکشن سے قبل ہر وہ پارٹی جو اس پارٹی کی راہ میں ذرہ برابر بھی رکاوٹ بن سکتی تھی اسے الیکشن کی سر گرمیوں سے نہ صرف بہت دور رکھا گیا بلکہ تا حال انہیں کھل کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
پاکستان بن جانے کے بعد سے تاحال سیاسی توڑ پھوڑ کا جو سلسلہ جاری ہے لگتا ہے کہ اب اس کا بھی ڈھڑم تختہ ہونے جارہا ہے۔ وہ پارٹی جو بڑی منصوبہ بندی اور جاں فشانی کے بعد بھان متی کے کنبے کی طرح تشکیل دی گئی تھی ان کی ہانڈیاں بھی بیچ چوراہوں پر دھڑا دھڑ ٹوٹتی پھوٹتی نظر آ رہی ہیں۔ خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی کابینہ کے تین وزرا کو یہ الزام لگا کر نکال باہر کردیا گیا کہ وہ اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف بغاوت پر اتر آئے تھے۔ صوبائی کابینہ سے فارغ کیے جانے والوں میں سینئر وزیرکھیل، ثقافت اور سیاحت عاطف خان، وزیر صحت شہرام ترکئی اور وزیر ریونیو اور اسٹیٹ شکیل احمد شامل ہیں۔ گورنر ہاؤس پشاور کی جانب سے ان تینوں وزرا کی برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ایسی خبریں کافی عرصے سے گردش کر رہی تھیں کہ پی ٹی آئی کے اندر کافی کھچڑی پک رہی ہے جس کی بنیادی وجہ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو ابھی تک کسی بھی قسم کے ترقیاتی فنڈز کو جاری نہ کرنا ہے۔ اگر اس کو مثبت انداز میں لیا جائے، تو فنڈ کو جاری نہ کرنا واقعی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے منتخب ارکان اسمبلی اپنے اپنے علاقے والوں کی نظروں کا جواب دینے میں مشکلات کا شکار ہیں اور اگر اس کو منفی رنگ دیا جائے تو بے تحاشا پیسہ خرچ کرنے کے باوجود بھی وہ برابر نہیں ہو رہا ہو تو بے چینی کا سبب تو بنے گا ہی۔ مختصر یہ کہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے وزرا اور ارکانِ اسمبلی سخت کشید گی کا شکار ہیں۔
کے پی کے سے کہیں زیادہ خراب صورت حال پنجاب اور بلوچستان کی ہے جہاں پی ٹی آئی کے اتحادی اور اتحاد کے نتیجے میں بنائی جانے والی مرکز اور صوبوں کی حکومتیں سخت دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسا ہونا کوئی غیر فطری نہیں اس لیے کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی، پارٹی سے زیادہ ’’لوٹا کریسی‘‘ کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو تو پھر ہر لوٹے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ’پیندا‘ فراہم کیا جائے ورنہ اس کو بار بار لوٹ پوٹ ہونے سے روکا ہی نہیں جاسکتا۔
پاکستان کے ساتھ روز اول سے یہی مسئلہ سب سے زیادہ سنجیدہ رہا ہے کہ یہاں پارٹیاں بننے ہی نہیں دی گئیں اور ملک میں موجود سیاسی قوت کو استعمال کیا گیا۔ مسلم لیگ، کنویشنل، فنکشنل، جونیجو، ضیا اور نون اس کی اعلیٰ مثالیں ہیں اور پھر عوامی لیگ ہو، پی پی پی ہو یا اب پی ٹی آئی، جب ساری کی ساری سیاسی قیادتیں صرف اور صرف جوڑ توڑ کا نتیجہ ہوں تو پھر کسی کا بھی قبلہ کسی جانب پھر جانے سے کسی کو بھی روکا نہیں جاسکتا۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جو اس جوڑ توڑ کے پسِ پشت رہے ہیں اب وہ بھی شاید اس حد تک بے بس ہو چکے ہیں نہ ان سے اگلے بن پڑ رہا ہے اور نہ نگلے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہر وہ کام جو غلط طریقے سے کیا جاتا ہے اس کے نتائج کبھی صحیح نہیں نکلا کرتے سو پاکستان کے مقتدر حلقوں کے لیے بھی یہ بات ایک لمحہ فکر سے کم نہیں۔