امن منصوبہ فلسطینی قوم کے  حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال ہے، فلسطینی اتھارٹی

245

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ  امریکی صدر کا مشرق وسطیٰ میں امن منصوبہ کوئی امن پروگرام نہیں ہے بلکہ امن کے نام پر دھوکے سےفلسطینی قوم سے ان کےبنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس  اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

محمود عباس نے کہا کہ یہی کافی نہیں تھا کہ امریکا نے امن منصوبے کی سازش ہونے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کیا ہے۔

 اگر القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہم بھی یہ منصوبہ قبول نہیں کریں گے۔ کوئی عرب، مسلمان یا عیسائی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی امن پروگرام نہیں ہے بلکہ امن کے نام پر دھوکے سےفلسطینی قوم سے ان کےبنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی نئی چال ہے۔

واضح رہے کہ  امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ  نے اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر تقسیم شدہ  دارالحکومت رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں دارالحکومت بھی فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ  امن منصوبے کے تحت فلسطین میں پچاس ارب ڈالر کی تجارتی سرمایہ کاری ہوگی جبکہ 10 لاکھ فلسطینیوں کو ملازمت کے مواقعے بھی فراہم کیے جا ے گیئں۔

امریکی صدر کے بیان پر  ردعمل دیتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج شروع کیا اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے نعرے بلند کیے۔