حسینہ واجد پر حملہ کرنے والوں کو 32 سال بعد سزائے موت

205

ڈھاکہ: 24 جنوری 1988 میں بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد کی گاڑی پر حملہ کرنے والے 5 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنا دی گئی۔

جنوری 1988 میں عوامی لیگ پارٹی کی لیڈر حسینہ واجد اس وقت کے صدر ایچ ایم ارشاد کی فوجی حکمرانی کے خلاف ایک ریلی میں شریک تھیں جب 5 پولیس اہلکاروں نے  فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حکومت مخالف ریلی میں موجود 24 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

غیر ملکی ذرائع کے مطابق جنوب مشرقی بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں عدالت نے 53 گواہوں کومدِ نظر رکھتے ہوئے 1988 میں حسینہ واجد اور ان کے حامیوں پر قاتلانہ حملہ کرنے والے 5 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنادی۔

پانچ مجرموں میں سے چار ،مستفیض الرحمٰن، پردیپ باروا، شاہ عبداللہ، اور ممتاج الدین عدالت کے روبرو موجود تھے جبکہ ایک گوبندا چندرا مونڈل تاحال مفرور ہے۔

واضح رہے کہ 14 اکتوبر  1999 کو بنگلہ دیش کے محکمہ فوجداری تحقیقات نے آٹھ پولیس اہلکاروں پر قتل کا الزام عائد کیا تھا جن میں سے تین ملزمان انتقال کرگئے ہیں۔