مولانا مودودیؒ مسلمانوں کو ذہنی غلامی سے نکالنے کیلیے تاریخی کارنامہ انجام دیا(ایکسپو میں سیمینار)

156
جماعت اسلامی کے تحت ایکسپو سینٹر میں بک فیئر کے موقع پر(آؤ مودودی ؒکو پڑھیں) کے موضوع پرمنعقدہ تقریب سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اسامہ رضی، شاہنواز فاروقی، عرفان حیدر ودیگر اظہار خیال کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ مولانا مودودی ؒ ایک عہد ساز شخصیت تھے ،1400سال کے عرصے میں اسلام کی بھرپورفکری تجدید اس عہد میں ہوئی ،اس حوالے سے مولانا مودودی ؒ جیسی شخصیت نے انگریزوں کی حکمرانی کے دور میں مسلمانوں کو ذہنی غلامی سے نکالنے کے لیے اپنے لٹریچر اور تقاریرسے نمایاں تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ،مولانا محض روایتی مولوی نہیں تھے بلکہ انہوں نے ایک وژن کے تحت ملت اسلامیہ کو پیغام دیا کہ نظام کو بدلنے کے لیے اجتہاد اور اسلامی جمہوریت کی ضرورت ہے ،مولانا مودودی ؒ نے فکر ی محاذ پر تقریراور تحریرکے ذریعے معاشرے کو آمادہ کیا کہ نظام کی تبدیلی کے لیے عوام ایک نظریے کے گرد اکھٹے ہوں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت پندرہویں سالانہ انٹر نیشنل بک فیئر کے موقع پر ’’Let’s Read Moudoodi‘‘(آئیں مودودی کو پڑھیں)کے موضوع پر منعقدہ پینل ڈسکشن و سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جب کہ نظامت کے فرائض معروف اینکر انیق احمد نے انجام دیے ۔سیمینار میں مولانا مودودی ؒ کے لٹریچر پر مشتمل ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی اور مولانا مودودیؒ کے لٹریچر پر مشتمل ’’Let’s Read Moudoodi‘‘کے نام سے ویب سائٹ کا افتتاح کیا گیا ۔ سیمینار سے معروف اسکالر شاہ نواز فاروقی، ماہر تعلیم ڈاکٹر محمود غزنوی،ماہر تعلیم ڈاکٹر عرفان حیدراور شفیع چترالی نے بھی خطاب کیا۔شاہ نواز فاروقی نے کہاکہ مولانا کے امت پر ایک نہیں بے شمار احسانات ہیں،مولانا نے دنیا کے سامنے نا صرف حق وباطل کو واضح کیا بلکہ عملاً باطل کے خلاف سینہ سپر بھی ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ،اس سے قبل غلامی کے زیر اثر ذہنوں کے لوگوں نے دین کو چند عبادات اور رسومات کی حد تک محدود کردیا تھا اسی لیے مولانا نے بتایا کہ اسلام مغلوب ہونے کے لیے نہیں بلکہ غالب ہونے کے لیے آیا ہے ۔مولانا ایک وژنری شخصیت تھے اسی بنیاد پر انہوں نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ سیکولرازم اور کمیونزم کواپنے اپنے ٹھکانوں پر پناہ حاصل نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے کہاکہ مولانا نے اس تصور کو بھی واضح کیا کہ مسلمانوں کی زندگی خدا مرکز ہونی چاہیے ۔ڈاکٹر عرفان حیدر نے سوال ’’ہم مولانا مودودیؒ کو کیوں پڑھیں ‘‘کے حوالے سے کہا کہ مولانا مودودیؒ کے نظریات اور اسلوب نے نا صرف اس دور کے نوجوانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کیا بلکہ آج کے نوجوان بھی مولانا مودودیؒ کو پڑھ کر دور جدید کے چینلجز کا سامنا کرسکتے ہیں ۔مولانا مودودی ؒ کے بعد علمی میدان میں ان کی فکر کو آگے لے کر چلنے والے افراد کی تیار ی میں کمی آئی ہے ۔ڈاکٹر محمود غزنوی نے مولانا مودودی ؒ کی تعلیم اور تصورعلم کے حوالے سے کردار کے بارے میں کہاکہ انہوں نے روایات کے ٹھیرے ہوئے تالاب میں کنکر پھینک کر ہل چل پیدا کردی ،مولانا نے مولوی نہیں بلکہ فکری مجاہد ین تیار کیے ہیں ،مولانا نے سوشلزم اور کمیونزم کے عروج کے دور میں اسلام کے نظام کی بات کی جس پر انہیں پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی ،مولانا مودودیؒ نے نظام اسلام کے نفاذ کی جدوجہد میں نوجوانوں کو عملاً شریک کروایا ۔انہوں نے کہاکہ بلاشبہ نبوت تو ختم ہوگئی لیکن کار نبوت جاری ہے جسے مولانا مودودیؒ نے بحسن خوبی انجام دیا۔شفیع چترالی نے کہاکہ مولانا مودودیؒ نے مختلف ذہنی سانچوں پر مشتمل افراد کے لیے بہترین کام کیا ، آسان فہم انداز میں لٹریچر لکھا جس میں نظام سیاست اور نظام دین کو سمجھانے کے لیے بہت ہی آسان انداز میں تحریریں لکھیں۔انہوں نے کہاکہ ہر دور میں مختلف فتنے آتے رہے ،ہمارے زمانے کا بڑا چیلنج الحاد ہے ،یہ فتنہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں فکری میدا ن میں کام کرنا ہوگا اور ایسے موقع پر مولانا مودودی ؒ کے لٹریچر کی ڈیجٹلائزیشن ایک بہترین پیش رفت ہے ۔سیمینار میں شریک معزز مہمانان گرامی اور ویب سائٹ کی تیاری میں شریک کارکنان کو بھی شیلڈز دی گئیں ۔