کشمیر کے حوالے حکمرانوں کو چارٹر آف اسلام آباد دیں گے، طارق سلیم

168
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام 22 دسمبر کو اسلام آباد میں ایک عظیم الشان اور تاریخی کشمیر مارچ منعقد ہوگا، جس میں لاکھوں افراد اہل کشمیر پر بھارتی مظالم کیخلاف بھارتی فوج کے مظالم اور پاکستانی حکمرانوں کیخلاف غم و غصے کا اظہار کریں گے اور اسلام آباد کے بے حس حکمرانوں کو ان کی ذمے داریاں یاد دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 22 دسمبر کے عظیم الشان پروگرام میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کشمیر کے حوالے سے حکمرانوں کو چارٹر آف اسلام آباد پیش کریں گے۔ مسئلہ کشمیر صرف جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پوری اُمت مسلمہ کا مسئلہ ہے مگر اس مسئلے کو صرف جماعت اسلامی نے زندہ کیا ہوا ہے۔ اسلام آباد کے حکمرانوں نے بے حسی کی چارد اُوڑھ رکھی ہے اور کشمیریوں پر 125 دن سے جاری مظالم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ 125 دن مکمل محاصرے اور مواصلاتی لاک ڈائون کے باعث 80 لاکھ کشمیری اذیت ناک زندگی گزرانے پر مجبور ہیں۔ 9 لاکھ فوج نے انسانی، سیاسی، سماجی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی آزادیاں سلب کر رکھی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری جنرل اقبال خان، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، جماعت اسلامی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات انعام الحق اعوان، ضلعی سیکرٹری اطلاعات سجاد احمد عباسی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ اہل مغرب جانوروں کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں مگر انہیں کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کیوں نظر نہیں آتے ؟۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا مگر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تقریروں اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں، شہادتوں اور مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک گیر کشمیر مارچ کے ذریعے عالم اسلام کے 56 اسلامی ممالک کو کشمیریوں کے حوالے سے اُن کا اخلاقی فرض بھی یاد دلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہم سید علی گیلانی اور مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو جبر اور گھٹن کے اس ماحول میں بھی پوری جرأت اور استقامت کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔