وفاقی کابینہ ، آرمی چیف کی توسیع پر مشاورت، 10نکاتی ایجنڈے کی منظوری

58
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت،خبر ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قانون سازی اور چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ا رکان کی تقرری پر مشاورت کی گئی جبکہ وفاقی کابینہ نے 10 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی۔اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے حق وراثت کی منتقلی اورقانونی وارثین کے تعین کے لیے 6دسمبر سے لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکسیشن سرٹیفکیٹس آرڈیننس 2019کے نفاذ ،جموں اینڈ کشمیر اسٹیٹ پراپرٹی کے بجٹ برائے مالی سال2019-20 ، اکادمی ادبیات کے سربراہ ، واپڈا واٹر اینڈ پاور کے ممبران اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ میںتعیناتیوں کی منظوری دیدی ہے ۔ وزیر اعظم نے اقتصادی اعشاریوں، خصوصاً عالمی اداروں کی جانب سے ملکی معیشت میں بہتری کے اعتراف پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کاوشوں کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے۔ مشیر خرانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کابینہ کو ملکی معاشی صورتحال خصوصاً معاشی اعشاریوں میں بہتری اور معیشت کی مجموعی صورتحال کی بہتری کے ضمن میں عالمی اداروں کے اعتراف کے حوالے سے بریف کیا۔ وزیر اعظم نے اقتصادی اعشاریوں اور خصوصاً عالمی اداروں کی جانب سے ملکی معیشت میں بہتری کے اعتراف پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کاوشوں کی بدولت ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مزید مستحکم کرنا اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کا حصول ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوام کو معاشی میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے آگاہ کیا جائے تاکہ کاروباری برادری کے اعتماد کو مزید تقویت فراہم ہو۔ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 نومبر اور 28 نومبر کے اجلاس میں لیے ہوئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 15 نومبر 2019 میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ ان میں ایس ایم ای بنک لمیٹڈ کی نجکاری کا ٹرانزیکشن اسٹرکچر اور پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کی ممکنہ نجکاری کے لیے قائم کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس کی منظوری شامل ہے۔ کابینہ نے پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن اور سیکورٹی پیپرز لمیٹڈ کراچی کے تمام عہدوںپر پاکستان ایسینشل سروسز (مینٹی ننس) ایکٹ 1952کے نفاذ میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔ کابینہ نے جموں اینڈ کشمیر اسٹیٹ پراپرٹی کے بجٹ برائے مالی سال 2019-20 کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت عملی اقدام اٹھاتے ہوئے اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز (شرقی و غربی)، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز اور سول ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ڈویژن (شرقی و غربی) اسلام آباد کے مجسٹریٹ ججز کی عدالتوں کو جووینائل کورٹس (بچوں کے کیسز سننے والی عدالتیں) نامزد کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے کہا کہ مندرجہ بالا قانون کے تحت مخصوص عدالتوں کے قیام اور مکمل طور پر فنکشنل ہونے تک پہلے مرحلے میںبچوں سے متعلقہ مقدمات کی سماعت کے لیے مندرجہ بالا عدالتوں کو یہ ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ کابینہ نے حق وراثت کی منتقلی اور قانونی وارثین کے تعین کے لیے حال میں متعارف کرائے جانے والے قانون، لیٹرز آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سیکسیشن سرٹیفکیٹس آرڈیننس 2019 کے نفاذ کی باقاعدہ تاریخ کا تعین کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان جمعہ کے روز اس قانون کے باقاعدہ نفاذ کی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ کابینہ نے جایداد میں خواتین کے حق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائے جانے والے انفورسمنٹ آف وویمنز پراپرٹی رائٹس آرڈیننس 2019 میں ترمیم کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈاکٹر محمد یوسف خشک کو چیئرمین پاکستان اکادمی ادبیات تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ تعیناتی تین سال کے لیے کی گئی ہے۔ کابینہ نے واپڈا میں ممبر (واٹر) کے عہدے کی ذمہ داری کرنٹ چارج کے طور پر ذوہیر خان درانی اور ممبر (پاور)کی ذمہ داری جاوید اختر کو سونپنے کی منظوری دی۔ چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے کابینہ کو یوٹیلیٹی اسٹورزکی کارکردگی اور خصوصاً حکومت کی جانب سے حال میں کم آمدنی والے طبقے کو اشیائے ضروریہ (گھی، چینی، آٹا، دال،چاول) سستے نرخوں پر فراہمی کیلیے چھ ارب روپے کی فراہمی اور اس کے طریقہ استعمال کے حوالے سے تفصیلی طور پر بریفنگ دی تاکہ معاشرے کے کم آمدنی والے افراد اور غریب خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو ہدایت کی کہ اشیائے ضروریہ کی خرید اری اور فراہمی کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ غربت کا شکار اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ کابینہ نے خالد حامد کو چیف ایگزیکیٹو آفیسر نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ تعینات کرنے کی منظوری دی۔