دو وزرائے اعظم کو سزا دی،اب سابق آرمی چیف کا فیصلہ ہوگا، چیف جسٹس

94
اسلام آباد : چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ موبائل ایپ اور ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ایک وزیراعظم کو ہم نے سزا دی، دوسرے کو نااہل کیا اور اب سابق آرمی چیف کے مقدمے کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہمیں طاقتوروں کا طعنہ نہ دیں‘ ہمارے سامنے طاقتور صرف قانون ہے، ججوں پر تنقید اوراعتراض میں تھوڑی احتیاط کریں۔ عدالت عظمیٰ میں بدھ کو وکلا اور سائلین کے لیے موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم نے 2 روز قبل جس کیس پر بات کی اس پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتا لیکن کسی کو باہر جانے کی اجازت عمران خان نے خود دی تھی ہائی کورٹ نے صرف جزئیات طے کیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون کی بھی بات کی ، انہوںنے جس کیس کی بات کی وہ ابھی زیرالتواء ہے اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی عدلیہ کا تقابلی جائزہ 2009ء سے پہلے والی عدلیہ سے نہ کریں، 3ہزار ججوں نے 36 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے جن میں صرف تین چار طاقتورلوگوں کے مقدمات شامل ہیں،وسائل کے بغیر ہم نے بہت کچھ کیا ،انہیں وسائل میں 25 سال سے زیر التواء مقدمات ختم کر دیے،ہم نے ماڈل کورٹس بنائے کوئی ڈھنڈورا نہیں پیٹا،ہم نے ماڈل کورٹس کا اشتہار نہیں لگوایا،،116 اضلاع ہیں 17 اضلاع میں کوئی مقدمہ زیر التواء نہیں ہے،ہمارے زمانے میں سائلین کو جج کے منشی کو پیسے دینا پڑتے تھے،منشیوں کو معلومات کے لیے اخراجات کرنے پڑتے تھے،اب تمام معلومات ایک کلک پر موجود ہیں جن سے یہ مسائل ختم ہو جائیں گے،ویب سائٹ کو مزید بہتر کیا گیا ہے،یہ 3 اقدامات سائلین کو سہولت دینے میں بہت آگے تک جائیں گے،کوئٹہ کے کیس کا 3 ماہ میں عدالت عظمیٰ سے فیصلہ ہوا، 2 دن پہلے ایک قتل کیس کا وڈیو لنک کے ذریعے فیصلہ کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ جن لاکھوں افراد کو عدلیہ نے ریلیف دیا انہیں بھی دیکھیں، اب ہمیں وسائل کی کمی محسوس ہو رہی ہے، وزیراعظم جب وسائل دیں گے تو مزید اچھے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔انہوںنے کہا کہ ماڈل کورٹس نے تمام نتائج صرف 187 دنوں میں دیے، فیملی مقدمات طاقتور لوگوں کے نہیں ہوتے، 20 اضلاع میں کوئی سول اور فیملی اپیل زیرالتواء نہیں، منشیات کے 23 اضلاع میں کوئی زیرالتواء مقدمات نہیں، ماڈل کورٹس کی وجہ سے 116 اضلاع میں سے 17 میں کوئی قتل کا مقدمہ زیر التواء نہیں، تمام اپیلوں کے قانون کے مطابق فیصلے کیے گئے، تمام اپیلیں ناتواں لوگوں کی ہیں طاقتور اور کمزور میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔