چھ وزراء کی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت

81

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چھ وزراء  کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کی مخالفت کی  گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنےانہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سےبحث ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری،وفاقی وزراءعلی زیدی،مراد سعید، فواد چوہدری، فیصل واوڈا،شیری مزاری، علی امین گنڈا پور اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی بھرپور مخالفت کی  جبکہ دیگر ارکان نے نواز شریف کےعلاج کیلئےباہر جانےدینے کی حمایت کی۔

مخالف اراکین کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو علاج کے لیے باہر بھیجنا درست عمل نہیں کیوں کہ سزا یافتہ شخص کا بیرون ملک جانا تحریک انصاف کی پالیسی کے خلاف ہے، ماضی میں بھی یہ لوگ حکومیتں کرکے باہر جاتے رہے ہیں اگر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی گئی تو تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ وہ وہاں سے واپس نہیں آئینگے تاہم اس دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں ہمیں پہلے شک و شبہ تھا کہ وہ شدید بیمار نہیں تاہم ہم نے مکمل جانچ پڑتال کرائی جس سے معلوم ہوا کہ وہ واقعی بیمار ہیں ۔ جس کے بعد حکومت نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا ۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسا کررہے ہیں، نواز شریف کو ان کی مرضی کا علاج کرنے دینا چاہیے تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ واپس آئیں گے اس ضمن میں ذیلی کمیٹی نواز شریف کے اہل خانہ سے ان کی واپسی کی مکمل ضمانت لے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک قانونی معاملات ہیں اس بارے میں بھی میں نے وزیر قانون سے مشاورت کی ہے۔