بھارت ہندو ریاست بننے جارہا ہے، اسدالدین اویسی

115

 بابری مسجد سے متعلق  بھارتی سپریم کورٹ کےفیصلے کے خلاف بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں۔

 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت ایک ہندو ریاست بننے جارہا ہے، بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے عمل کا آغاز ایودھیا سے شروع ہوگیا ہے،انہوں نےکہا کہ آئین کامکمل احترام کرتےہیں مگر سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں، اپنےحق کیلیےلڑ رہے تھے۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ انصاف انصاف ہوتا ہے عدالتوں کے فیصلے بھائی چارگی کے لیے نہیں ہوتے،  6 دسمبر 1992 کو سنگھ پریوار نے پانچ سو سال پرانی مسجد کو شہید کیا تھا ، ڈر اس بات کا ہے کہ سنگھ پریوار مزید مساجد پر دعوے کرے گا، اب یہ لڑائی رکے گی نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ آج بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے حقائق پر عقیدے کی جیت ہوئی ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہم کو تکلیف ہے، ہم مطمئن نہیں ہیں۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے کہ مسجد کیلیے پانچ ایکڑ کی زمین نہ لے، ہماری ساری لڑائی قانونی تھی، پانچ ایکڑ زمین کیلیے نہیں تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کسی سے بھیک کی ضرورت نہیں ہے، بھارت کامسلمان اتناگیاگزرا نہیں کہ وہ مسجد کی تعمیر کیلیے 5 ایکڑزمیں نہ خریدسکے، ہمیں مسجد کیلیے5ایکڑزمین کی  خیرات کی ضرورت نہیں ہے۔