جونا گڑھ پاکستان کا نامکمل باب

74

عبد العزیز العرب
اقوام متحدہ کے غیر حل طلب مسائل میں سے ایک بہت اہم حل طلب مسئلہ جوناگڈھ بھی ہے جو آج بھی راکھ میں دبی ایک چنگاری ہے جو کسی وقت بھی بھڑک سکتی ہے. ریاست جوناگڑھ جو تقریباً 4 ہزار میل پر مشتمل ہے۔ یہ سمندر کے راستے کراچی سے صرف 300 میل کے دوری پر ہے۔ تقسیم ہند کے وقت یہاںنواب مہابت خانجی کی حکومت تھی۔ انہوں نے 15 ستمبر 1947 کو پاکستان کیساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کئے لیکن ہندوستان نے اس الحاق پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ جب نواب مہابت خانجی کراچی پہنچے تو ہندوستان نے 9 نومبر 1947کو جوناگڑھ میں فوجیں داخل کردیں اور بزور طاقت جوناگڑھ کو اپنی عملداری میں داخل کرلیا۔جوناگڑھ پر ہندوستانی تسلط کے 72 برس پورے ہو گئے لیکن کراچی میں مقیم جوناگڑھی عوام اس جبر و تسلط کو بھول نہ سکے۔ نواب مہابت خانجی کے پوتے نواب جہانگیر خانجی اب بھی جوناگڑھ کی آزادی کیلئے کوشاں ہیں۔
ہندوستان کے اس غاصبانہ قبضے کے خلاف پاکستان نے اس وقت اقوام متحدہ سے رجوع کیا لیکن بعد میں پاکستانی سیاست میں ردوبدل اور حکمرانوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے یہ اہم مسئلہ پس منظر میں چلا گیا اور آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ جونا گڑھ بھی کبھی ہمارا حصہ تھا۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم اور تاریخی لحاظ سے مسلمانوں کی ایک اہم ریاست آزادی کے وقت ہندوستان کی 562ریاستوں میں چھٹی بڑی اور امیر ترین ریاست تقریباََ 3 مہینے پاکستان کا حصہ رہنے کے بعد ہندوؤں کے قبضے میں چلی گئی۔
جونا گڑھ کے اصل حکمران یعنی نواب محمد جہانگیر خانجی جوکہ اس وقت کے نواب آف جوناگڑھ مہابت خانجی کے پوتے ہیں آج بھی کراچی کے جوناگڑھ ہاؤس میں یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومت پاکستان جوناگڑھ کو ہندوستانی قبضے سے چھڑائے گی اور ان کی یہ امید عبث اور بے کار نہیں ہے بلکہ ان کا یہ حق ہے کہ وہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف دلاتے رہیں کیونکہ یہ ہم سب کا اخلاقی، ملی اور دینی فریضہ ہے کہ ہم جوناگڑھ سمیت دیگر مسلمان علاقے اور ریاستیں جوکہ ان دنوں کفار کے قبضے میں ہیں ان کو آزاد کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
آج جونا گڑھ پر بھارتی تسلط اور ناجائز قبضے کو 72 سال ہوچکے لیکن کراچی میں مقیم جونا گڑھی عوام بھارتی جبر و تسلط کو آج بھی فراموش نا کرسکے ان کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ پہلے پہل جونا گڑھ پاکستان کے نقشے پر کشمیر کی طرح شامل تھا مگر اب نجانے کیوں اسے پاکستانی نقشے سے نکال دیا گیا ہے۔ پہلے تعلیمی نصاب میں بھی اس کا ذکر ملتا تھا اب وہ بھی نہیں ہے۔ریاست جونا گڑھ کا معاملہ آغاز ہی سے سیاسی سردمہری کا شکار ہے۔ کشمیر کیلئے تحریک حریت پوری دنیا میں معروف ہے مگر جونا گڑھ کیلئے کوئی خاص اہتمام پاکستانی حکومتوں کی طرف سے نہیں کیا گیا۔ریاست جونا گڑھ کے نواب مہابت خانجی کے بعد ان کے بیٹے اور اب پوتے نواب محمد جہانگیر خانجی تک ایک ایسی مرکزی شخصیت ہیں کہ وہ خود اکیلے ایک تحریک حریت کی طرح ہیں۔ وہ ابھی تک اپنے استحقاق پر قائم ہیں اور جونا گڑھ کے الحاق کو ہی اپنی زندگی کا مقصد و منشاءسمجھتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کی وجہ سے زندہ ہے۔ وہ جہاں ہوں جس محفل میں ہوں نواب آف جونا گڑھ کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔
جونا گڑھ تاریخ کے پنوں میں ہماری بے حسی کی وجہ سے آج گمنام ہوچکا ہے۔ یہ بات اس وقت اہمیت کی حامل ہے کہ کشمیر کے ایشو کو جس طرح سے پاکستانیوں نے اجاگر کیا ہوا ہے اسی جذبے اور جوش سے ہمیں جونا گڑھ کے ایشو کو بھی اٹھانا چاہیے۔ جونا گڑھ پاکستان کا آئینی حصہ ہے۔ اپنے اس حصے کو ہم کیسے بھلا سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس وقت کی موجودہ سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کشمیر کے ساتھ جوناگڈھ کے مسئلہ کو بھی اٹھانا چاہئے. پاکستان میں جونا گڑھ کی کئی برادریاں مقیم ہیں۔ ان کو بھی اس حوالے سے آواز بلند کرنا ہوگی۔ اسی طرح سے ہمارے میڈیا کو بھی جونا گڑھ کے الحاق اور سقوط کے مواقع پر خصوصی کوریج دینی چاہیے۔ میڈیا ریاست جوناگڑھ کے لئے آواز اٹھا کر اپنا دینی اور قومی فریضہ ادا کرسکتا ہے۔ جوناگڈھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن جوناگڈھ عوام کی فلاح و بہبود اور جوناگڈھ کے مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہے.
جونا گڑھ اسٹیٹ مسلم فیڈریشن کی جانب سے الحاق اور سقوط جونا گڑھ کے حوالے سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بہترین اقدام ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر کے محب وطن پاکستانیوں کو بھی مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے تقاریب کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ جوناگڈھ پاکستان کا آئینی اور قانونی حصہ ہے اور جوناگڈھ کے بغیر پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں ہے. جوناگڈھ پاکستان کا ایک نامکمل باب ہے۔
OOO