حکومت تصادم کی طرف لے جارہی ہے‘ فضل الرحمن۔پیرکے روز شاہراہ ریشم اور موٹرویزبند کرنے کی تجویز

132
اسلام آباد:سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ نماز جمعہ ادا کررہے ہیں
اسلام آباد:سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے شرکا کے ساتھ نماز جمعہ ادا کررہے ہیں

اسلام آباد(صباح نیوز+آئی این پی)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ وزرا کالب لہجہ مفاہمت نہیں، حکومت تصادم کی طرف لے جارہی ہے،حکومتی کمیٹی کو کہہ دیا ہے کہ استعفا لیے بغیر نہ آئے۔جمعہ کی شب آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں آزادی مارچ کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ فضل الرحمن کے بقول یہ جعلی اسمبلی بنائی گئی جو جعلی قانون سازی کر رہی ہے،ایسے قوانین کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، جعلی وزیر اعظم کے ایگزیکٹو آرڈر زبھی جعلی ہیں جنہیںکوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایڈہاک ازم پر ملک نہیں چلتے، ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرنا چاہیے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو متنازع بنا دیا گیا ہے۔سربراہ جے یوآئی نے کہا کہ ہم اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے،ہماری افواج پاکستان نے امن کے لیے قربانیاں دی ہیں لیکن اگر قوم کی قربانیاں نہ ہوتیں تو فوج اس ہدف کو حاصل نہیں کر سکتی۔جمعیت ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ قربانیاں اس لیے نہیں دی کہ ایسے نااہل لوگ حکمرانی کریں گے،ایسے حکمرانوں کو ملک پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے، پاکستان قبضہ گروپ کے لیے نہیں بنا، پاکستان کے لیے فیصلہ پاکستانی عوام کوکرنا ہے، دھاندلی سے آنے والوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کے مطابق حکومت والے کشمیر کو بیچ چکے ہیں۔علاوہ ازیں جے یو آئی (ف)نے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پیر کے روز شاہراہ ریشم ،موٹرویز کو سٹل ہائی وے سمیت اہم شاہراہیں بند کرنے کی تجویز دے دی ہے تاہم ن لیگ اور پی پی پی کی طرف سے اس پرجواب نہ مل سکا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے بھی اعصابی جنگ کے طورپر پرویزالٰہی سے ملاقات سے گریز کی راہ اپنا لی۔دوسری جانب اپوزیشن کی مختلف جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے کہاہے کہ رہبر کمیٹی کے فیصلے کرلیے ہیں وقت آنے پر ان کے بارے میں بتا دیا جائے گا، فی الحال پرویز الٰہی سے مولانا کی ملاقات نہیں ہورہی ،ملاقات کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان ہوجائے گا۔