علاج دل، جرم ٹھیرا اکمل

139

اسلام آباد سے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ صاحبہ کا فون آیا وہ ملائیشیا کے دورے پر جارہی ہیں جہاں وہ انسانی حقوق کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ انہوں نے گفتگو کے اختتام پر پوچھا اکمل بھائی کی کوئی خبر آئی؟ نفی میں جواب سن کر انہوں نے دعا کی اللہ پاک جلد سے جلد انہیں اپنے پیاروں میں واپس لائے۔ 23اکتوبر کو روزنامہ جسارت میں اور 24اکتوبر کو روزنامہ جنگ میں ڈاکٹر اکمل وحید کارڈیولوجسٹ کے لاپتا ہونے کی خبریں پڑھیں۔ ڈاکٹر اکمل وحید ایک غریب پرور، شریف النفس اور حساس دل رکھنے والے انسان ہیں، وہ اکثر شہر میں منعقد ہونے والے شعر و شاعری کی محافل میں نظر آتے تھے، خود بھی شعر کہتے ہیں مگر ابھی تک اپنا کلام چھپوایا نہیں، دوست کبھی کہتے کہ اپنے اشعار جمع کرکے اہلِ ذوق تک پہنچائیں تو مسکرا کر ٹال دیتے۔ ان کے کلینک پر ہر روز درجنوں مریض ایسے آتے جو سفید پوش، غریب ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب کے دوستوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ جتنے مرضی مستحق مریض بھیجیں، ڈاکٹر صاحب کی طرف سے کبھی کوئی شکایت سننے کو نہیں ملے گی۔
خبروں کے مطابق 14اکتوبر کی شام 5:45 پر ملیر شمسی سوسائٹی میں واقع شمسی اسپتال میں او پی ڈی مکمل کرکے نکلے جس کے بعد سے لاپتا ہیں۔ الفلاح تھانے کے ایس ایچ او صفدر مشوانی نے اپنے آئی جی کے واضح احکامات کہ ’’اگر کسی ایس ایچ او نے کسی واقع کی ایف آئی آر، درج نہ کی توایف آئی آر اس ایس ایچ او کے خلاف کاٹی جائے گی‘‘۔ کے برعکس اعلیٰ آفیسر سے فون پر احکامات وصول کرنے کے بعد ڈاکٹر اکمل کی گمشدگی کی درخواست وصول کرنے اور ایف آئی آر کے اندراج سے انکار کردیا جس کے بعد ان کی اہلیہ نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جہاں 20اکتوبر کو چودہ متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری ہوچکے ہیں۔ خدا کرے کہ ڈاکٹر اکمل وحید جلد سے جلد اپنی بیمار، ضعیف مگر بہادر ماں اور ایک ہمدرد، دلیر بیوی اور بچوں کے پاس لوٹ آئیں۔ ان کے وہ سیکڑوں مریض جن کا اللہ کے بعد وہ سہارا تھے، اب بے سہارا ہوچکے ہیں۔ سُنا ہے خدا بیمار کی سُنتا ہے تو ہمیں یقین ہے خدا بیماروں کی ضرور سننے گا۔ ڈاکٹر اکمل وحید کو ریاست پاکستان کی تمام عدالتوں نے باعزت بری کیا تھا، وہ جنرل مشرف دور کی عدالتوں سے بری ہوئے تھے، وہ جیل توڑ کر نہیں نکلے تھے۔ پاکستان میں 72سال میں جو تجربے کیے گئے ان کی فصلیں ابھی پوری طرح کٹی نہیں ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ آخر ریاست کب تک اپنے مفاد کے لیے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات اور ارمانوں کا خون کرتی رہے گی؟ اور یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟
آل انڈیا مسلم لیگ نے 1946ء کے الیکشن میں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ کا نعرہ لگا کر مسلمانوں سے ووٹ مانگا۔ مسلمان کلمے کا نام پر جان دے سکتے ہیں ووٹ کیا چیز تھی، لہٰذا مسلمانانِ ہند نے اپنا مکمل وزن آل انڈیا مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈال دیا۔ 1946ء میں مسلم لیگ کی کامیابی کا نتیجہ 87فی صد رہا۔ مدراس، آڑیسہ، بمبے میں تمام مسلم سیٹیں مسلم لیگ جیتی، جبکہ آسام، بنگال میں 95فی صد کامیابی حاصل کی۔ مگر قیام پاکستان کے بعد سے پاکستانی ریاست نے اپنے دو چہرے رکھے۔ پاکستانی عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اردو میں کی جانے والی گفتگو والا ایک چہرہ ہے جس زبان سے بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی ریاست ایک مذہبی، آئینی ریاست ہے جہاں دستور میں خدا تعالیٰ کو اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ بتلایا گیا ہے، جبکہ دوسرا وہ چہرہ جو بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ میں سامنے آتا ہے جہاں ریاست نے لکھ کر دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قوانین پر سو فی صد عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے آئین میں مسلسل درجہ بدرجہ اور آہستہ آہستہ تبدیلیاں لائے گی۔ اقوام متحدہ کا مقصد صرف ترقی کا حصول ہے۔ اقوام متحدہ کے لیے آخرت، جنت، جہنّم، خدا، رسول ان کی کوئی حیثیت نہیں، اگر یہ عقائد سرمائے کے بڑھنے کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہوں، لہٰذا جو ریاست اقوامِ متحدہ کی رکن بنتی ہے وہ یہ ضمانت دیتی ہے کہ وہ آج نہیں تو کل اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے آپ کو سو فی صد ڈھالے گی۔ مگر ہماری ریاست کا مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کی اعلیٰ اشرافیہ جو ’’سچ‘‘ جانتے ہیں وہ عوام کو بتا نہیں سکتے، کیونکہ عوام کی غالب اکثریت بے شک اعمال میں کمزور ہے مگر عشق نبوی اور ایمان میں مضبوط ہے۔ اس لیے 72سال سے عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
ریاست نے مذہب کو صرف استعمال کیا، لیکن کبھی نافذ نہیں کیا۔ استعمال بھی تب کیا، جب انہیں اس کی ضرورت تھی۔71ء میں سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد شراب کی کھلے عام فروخت پر پابندی لگادی گئی اور جمعہ کی چھٹی کردی گئی۔ جنرل ٹکاخان نے اپنے ادارے میں شراب پر پابندی لگائی، ورنہ ان سے پہلے شراب پینے پر کوئی ممانعت نہ تھی۔ بھٹو کے خلاف نوجماعتوں کے اتحاد میں مرکزی حیثیت مذہبی جماعتوں کو حاصل تھی اس وقت ان کو تمام سہولتیں دی گئیں۔افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت تھی جو دلیری سے لڑنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہوں، لہٰذا اس کے لیے مذہب کو بطور آلہ استعمال کیا گیا۔
مگر پھر محض 12سال بعد ہی ان سب نے قومی مفاد کے نام پر افغان بھائیوں کو نہ صرف بیچا بلکہ دشمن کی مکمل مدد بھی کی۔ لاکھوں مسلمان مجاہدین نے تربیت لی اور صرف خدا کی خوشنودی کے لیے میدان عمل میں کھڑے ہوگئے۔ خدا افغانستان جہاد میں شہید ہونے والوں کی شہادتیں قبول کرے (آمین) مگر کسی نے یہ سوال کیا یا غور نہ کیا کہ شہید ہونے والے مجاہدین کی بیویوں کو ماہانہ تنخواہ، پینشن کے اجراء اور شہداء کے بچوں کو فوج کے اسکول میں مفت تعلیم کے حصول کو ممکن بنانے میں کیا حرج تھا؟ شہداء کے گھر والوں کو عسکری اپارٹمنٹ یا فلیٹ یا بنگلہ دینے میں کیا قباحت تھی؟ یہی سوال جنرل پرویز کے کشمیر جہاد کو ترک کرنے سے پہلے کشمیر میں شہید ہونے والے مجاہدین اور غازیوںکے حوالے سے بھی بنتا ہے۔ وہ مجاہدین جو کشمیر میں ریاست کی سرپرستی میں گئے ان کے اہل و عیال، یا وہ، جو جہاد میں معذور ہوئے، وہ خود یا ان کے بچے کس حال میں ہیں؟ کشمیر اور افغانستان میں پاکستان آرمی نے کردار ادا کیا اس بات کا اعتراف تو عمران خان امریکا میں کرچکے، ابھی میں ایران میں کیے گئے اعتراف کی طرف نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ جب افغانستان جہاد اور کشمیر جہاد میں مذہبی لوگوں کو استعمال کیا گیا تو انہیں پھر اپنے پروجیکٹ بند کرنے اپنے قومی مفاد کے تبدیل ہوجانے کے بعد بے یار و مدار کیوں چھوڑ دیا گیا؟ اس عہد کے فوجی جوان اور افسران اگر آج تک ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی تمام ریاستی سہولتیں حاصل کررہے ہیں تو پھر افغانستان، کشمیر کے مجاہدین اور غازیوں کے بیوی بچے ان مراعات سے محروم کیوں؟ ہمارے حکمرانوں اور ذمے داروں نے اللہ اور رسول اللہ کے نام پر جو کھیل کھیلا ہے وہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ جو ڈیوٹی سمجھ کر تربیت اور اسلحہ دیتے رہے وہ 9/11 کے بعد قومی مفاد کے نام پر رجوع کرگئے، مگر جنہوں نے روزِ اوّل سے جنگ کو سمجھا ہی جہاد ہو، جنہوں نے کبھی تنخواہ، پینشن، پلاٹ کا لالچ دل میں رکھا ہی نہ ہو، جن کا ایمان شہادت ہو، جو جیتے ہی مرنے کے لیے ہوں جو آپ کو اپنے جیسا مجاہد سمجھتے رہے اور آپ کی سلامتی کی خاطر آپ سے پہلے خود کو پیش کرتے رہے، ان کو آپ نے لاوارث چھوڑ دیا، تو وہ اپنے ایمان کی گواہی اپنے عمل سے نہیں دینگے تو کیسے دیںگے؟؟ یہ چند سال کا قصہ نہیں یہ کئی نسلوں تک چلنے والے منزل کی تلاش میں نکلنے والے قافلے کی داستان ہے۔ جن کا ایمان یہ ہو کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا اور پاکستان قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے دارالامن، دارالسلام ہوگا وہ اس پاکستان کو اسلام کا قلع بنانے کی جدوجہد میں اپنا کردار نبھاتے رہیں گے۔ اب چاہے وہ، مدارس میں پڑھنے پڑھانے والے علماء کرام ہوں، جماعت اسلامی یا اس جیسی اسلامی تحریکوں کے کارکنان ہوں یا ڈاکٹر اکمل وحید جیسا فردِ واحد ہو جو بیمار انسانوں کا علاج کرتا تھا، یہی سوچتا ہوا میں پاسبان پاکستان کے سیکرٹری جنرل عثمان معظم کی اپنے فیس بک کی وال پر ڈالی گئی پوسٹ پڑھتا رہا کہ علاج دل جرم ٹھیرا اکمل۔
نوٹ: (کالم نگار وکیل اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان (سندھ) کے کنوینرہیں)