اسلام اور مسلمانوں سے عالم کفر کی نفرت

132

اسلام اور مسلمانوں سے عالم کفر کی شدید نفرت انسانی تاریخ کا ایک عجیب اور شرمناک واقعہ ہے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی مذہب اور کسی مذہبی طبقے سے نفرت نہیں کی۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی نسلی خوبی نہیں اس لیے کہ اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے۔ اس خوبی کی وجہ خود اسلام ہے۔ اسلام مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ تمام سابقہ انبیا پر ایمان لائو۔ چناں چہ مسلمان سیدنا موسیٰؑ پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور سیدنا عیسیٰؑ پر بھی۔ مسلمان توریت کو بھی آسمانی کتاب تسلیم کرتے ہیں اور انجیل کو بھی۔ البتہ مسلمان توریت اور انجیل کو تحریف شدہ سمجھتے ہیں مگر یہ رائے بھی مسلمانوں کی ’’شخصی‘‘ یا ’’گروہی‘‘ رائے نہیں۔ اس رائے کی بنیاد قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے فراہم ہونے والی اطلاعات ہیں۔ چناں چہ مسلمانوں نے نہ کبھی یہودیوں پر ظلم کیا نہ عیسائیوں کی نسل کشی کی۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے ہندوئوں اور بدھسٹوں کے ’’اوتاروں‘‘ اور کتب کے خلاف بھی کوئی توہین آمیز بیانیہ تخلیق یا مرتب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن تاریخ کے طویل سفر میں تمام بڑے مذاہب کے پیروکاروں نے اسلام، پیغمبر اسلام اور خود مسلمانوں کی تذلیل میں ایک خاص لذت محسوس کی ہے۔
بہت کم مسلمان اس امر سے آگاہ ہیں کہ ’’مشہور زمانہ‘‘ یا ’’بدنام زمانہ‘‘ صلیبی جنگوں کا آغاز کیوں ہوا تھا؟ ان جنگوں کی وجہ کوئی عام عیسائی نہیں تھا۔ بلکہ یہ جنگیں عیسائیت کی سب سے بڑی روحانی شخصیت پوپ نے ایجاد کی تھیں۔ 1095ء میں پوپ اربن دوم نے اسلام پر ایک ہولناک اور شرمناک حملہ کیا۔ پوپ نے کہا کہ معاذ اللہ اسلام ایک ’’شیطانی مذہب‘‘ ہے اور اسلام کے ماننے والے شیطانی مذہب کے پیروکار ہیں۔ پوپ نے کہا کہ میرے قلب پر یہ بات القا کی گئی ہے کہ عیسائیوں کو آگے بڑھ کر اسلام اور اس کے پیروکاروں کو فنا کردینا چاہیے۔ چناں چہ پوپ نے تمام یورپی اقوام کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کا حکم دیا۔ پوپ اربن دوم کا یہ حکم تسلیم کیا گیا اور 1099ء میں تمام یورپی طاقتیں ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئیں اور ان صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا جو کم و بیش دو سو سال جاری رہیں۔ ان جنگوں میں لاکھوں مظلوم مسلمان شہید ہوئے۔
مغربی دنیا نے اسلام اور عالم اسلام پر دوسرا بڑا حملہ نوآبادیاتی دور کے آغاز کے بعد کیا۔ مغربی دنیا نے مستشرقین کے ذریعے قرآن اور رسول اکرمؐ کی توہین کو ’’علم‘‘ بنانے کی رکیک حرکت کی۔ انہوں نے قرآن کو آسمانی کتاب تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسے رسول اکرمؐ کی ’’تخلیق‘‘ قرار دیا۔ رسول اکرمؐ کو اہل مغرب نے ’’Genius‘‘ تو تسلیم کیا مگر پیغمبر تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے رسول اکرمؐ کی جہادی اور خانگی زندگی پر شدید اور رکیک حملے کیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔
افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جہاد کے وقت مغرب پہلی بار سیاسی معنوں میں سہی مسلمانوں کا ’’اتحادی‘‘ بن کر سامنے آیا۔ مغرب کے سیاسی رہنمائوں اور ذرائع ابلاغ نے افغانستان کے جہاد کو ’’جہاد‘‘ اور مجاہدین کو ’’مجاہدین‘‘ تسلیم کیا اور ان کے قصیدوں کے انبار لگادیے۔ یہاں تک کہ امریکا کے صدر رونلڈ ریگن نے وہائٹ ہائوس میں افغان مجاہدین سے ملاقات میں افغان مجاہدین کو امریکا کے بانیوں کے ’’مساوی‘‘ یا ان کا ’’Moral equivalent‘‘ قرار دیا۔ یعنی امریکا کے بانیوں نے امریکا کو قائم کرکے انسانیت پر جو احسان کیا ویسا ہی احسان افغان مجاہدین نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف دادِ شجاعت دے کر کیا۔ لیکن سوویت یونین کی شکست کے ساتھ ہی امریکا کا ’’بیانیہ‘‘ تبدیل ہوگیا اور پوری مغربی دنیا نے افغان مجاہدین کو اچانک دہشت گرد قرار دینا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ کسی مغربی ملک نے طالبان کی حکومت کو ’’قانونی‘‘ تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو دہشت گردوں کا سرغنہ باور کرانا شروع کیا۔ اسامہ بن لادن اور ملا عمر میں اور عیبوں کے سوا یہ عیب بھی تھا کہ وہ ’’جمہوریت‘‘ کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
اس تناظر میں مغرب کا اخلاقی اور اصولی فرض تھا کہ وہ مسلم دنیا کی ان تحریکوں کی حمایت کرتا جو جمہوری نظام کے تحت جدوجہد کررہی تھیں مگر مغرب نے مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں اسلامی تحریکوں کی سیاسی اور جمہوری کامیابیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ الجزائر میں اسلامی فرنٹ نے کامیابی حاصل کی تو مغرب نے فوج سے بغاوت کراکے الجزائر کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا۔ نجم الدین اربکان ترکی میں سیکولر آئین کے تحت کام کررہے تھے مگر انہیں بھی ایک سال سے زیادہ اقتدار میں نہ رہنے دیا۔ حماس نے فلسطین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو کسی مغربی ملک نے حماس کی جمہوری کامیابی کو سینے سے نہ لگایا۔ بنگلادیش میں جماعت اسلامی جمہوری جدوجہد کررہی تھی اس پر مغرب اور بھارت نے پابندی لگوادی۔ مصر میں مرسی صدر منتخب ہوئے تو صرف ایک سال میں ان کے خلاف فوج سے سازش کراکے ان کی حکومت کو گرادیا گیا۔ یہاں تک کہ پورے عالم عرب میں اخوان کو دہشت گرد قرار دلوا دیا گیا۔ مہاتیر محمد پہلے دن سے ’’مغرب پرست‘‘ تھے مگر چوں کہ انہوں نے ملائیشیا کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنادیا تھا اور مغرب کسی مسلم ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں دیکھ سکتا اس لیے مغرب نے جارج سوروس کے ذریعے ملائیشیا کی معیشت پر حملہ کیا اور مہاتیر جیسا نرم خو رہنما چیخ پڑا۔ مہاتیر نے کہا کہ ہم نے تیس سال کی جدوجہد سے جو کچھ حاصل کیا ہے مغرب چند ہفتوں میں اس کو تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ مسلم دُنیا میں بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رجب طیب اردوان کبھی نجم الدین اربکان کی جماعت کا حصہ تھے مگر انہیں اربکان بہت زیادہ ’’انقلابی‘‘ یا مغرب کی اصطلاح میں ’’Radical‘‘ نظر آئے تھے۔ چناں چہ انہوں نے اربکان سے تعلق قطع کرکے نئی جماعت قائم کی اور بڑی سیاسی کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر مغرب نے انہیں بھی اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی سطح پر لاکھڑا کیا۔ مغرب کے پالیسی ساز اداروں اور ذرائع ابلاغ نے طیب اردوان کے بارے میں یہ تاثر اُبھارا کہ یہ ’’پوشیدہ اسلامسٹ‘‘ ہے اور ترکی میں ’’Creeping Islam‘‘ کی رہنمائی کررہا ہے۔ Creeping Islam سے مغرب کی مراد ایسا اسلام ہے جو شور شرابے کے ساتھ برق رفتاری سے سامنے نہیں آرہا بلکہ وہ بہت آہستگی کے ساتھ ریاست اور معاشرے میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ چناں چہ مغرب نے ان کے خلاف فوجی بغاوت کرادی مگر طیب اردوان بچ گئے۔ یہ ایک معجزہ ہے ورنہ مغرب جہاں فوجی بغاوت کراتا ہے وہاں فوجی بغاوت کامیاب ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مغرب کے لیے صرف اسامہ بن لادن اور ملا عمر ہی ناقابل قبول نہیں ہیں اس کے لیے مہاتیر محمد اور طیب اردوان بھی ناقابل قبول ہیں۔
مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی اور انہوں نے ایک ہزار سال میں نہ ہندوستان کے مذہب کو چھیڑا، نہ ان کی زبان کو ہاتھ لگایا، نہ ان کے پرسنل لا میں مداخلت کی اور نہ ایک ہزار سال میں کوئی ہندو کش فساد کرایا۔ مگر ہندو قیادت نے صرف 72 سال میں برصغیر کے مسلمانوں کا جینا حرام کردیا ہے۔ چناں چہ ہندوستان میں گزشتہ 72 سال کے دوران پانچ ہزار مسلم کش فسادات ہوچکے ہیں۔ ہندوئوں نے بھارتی مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سیاسی زندگی کو تباہ و برباد کردیا۔ بھارت آدھا پاکستان توڑنے میں اہم کردار ادا کرچکا ہے اور بچے کھچے پاکستان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ہندو قیادت نے منصوبے کے تحت بابری مسجد کو شہید کیا اور اب بھارت میں عدالت عظمیٰ کے ذریعے بابری مسجد پر ہندوئوں کے قبضے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ نریندر مودی سے گجرات میں مسلم کش فسادات کے بعد پوچھا گیا کہ آپ کو مسلمانوں کی موت پر دکھ تو ہوتا ہوگا؟ اس کے جواب میں مودی نے کہا کہ اگر آپ کی کار کے نیچے کتے کا پلا آجائے تو آپ کو دُکھ تو ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مودی بھارتی مسلمانوں کو کتے کا پلا سمجھتا ہے۔ یوپی کے موجودہ وزیراعلیٰ آدیتیا ناتھ کی موجودگی میں بی جے پی کے ایک رہنما نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم عورتوں کو قبروں سے نکال کر ریپ کرنا پڑے تو کرنا چاہیے۔ مسلمانوں نے اپنی پوری سو سال کی تاریخ میں کبھی ایسی باتیں کہی کیا سوچی بھی نہیں۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے طویل سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ظلم کیے ہیں مگر انہوں نے کبھی مذہبی اقلیتوں پر کوئی ظلم نہیں کیا۔
بدھ ازم کو اس اعتبار سے ہندوازم کے خلاف بغاوت کہا جاتا ہے کہ اس میں ذات پات کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے کبھی ہندوستان کے مرکز یعنی یوپی اور بہار میں بدھ ازم کو جڑیں نہ پکڑنے دیں۔ حالاں کہ مہاتما بدھ بہار کے علاقے گیا میں پیدا ہوئے تھے۔ ہندوئوں نے بدھسٹوں کو مار مار کر ہندوستان کے مضافات یعنی ان علاقوں میں دھکیل دیا جو آج پاکستان کہلاتے ہیں۔ چناں چہ کے پی کے اور افغانستان میں بدھ ازم کے بڑے مراکز قائم ہوئے۔ ان علاقوں میں مسلمانوں نے کبھی بدھ ازم یا بدھسٹوں کے ساتھ کوئی ظلم نہ کیا مگر برما میں بدھسٹوں نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی۔ انہوں نے سیکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلادیا۔ ہزاروں مسلم خواتین کی آبرو ریزی کی۔ حالاں کہ بدھ ازم میں چیونٹی کو مارنا بھی گناہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بدھسٹوں نے مسلمانوں کو چیونٹی سے بھی زیادہ حقیر بنادیا۔
باقی صفحہ7نمبر1
شاہنواز فاروقی
مسلم اسپین میں مسلمانوں نے یہودیوں کو اس طرح نوازا کہ یہودیوں کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مسلم اسپین میں یہودی فلسفی تھے، دانش ور تھے، شاعر تھے، تاجر تھے، صنعت کار تھے۔ یہاں تک کہ مسلم اسپین کا وزیر خزانہ بھی یہودی تھا مگر یہودیوں نے فلسطین میں مسلمانوں پر وہ ظلم ڈھائے ہیں کہ جدید انسانی تاریخ میں اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ایک وقت تھا کہ عالم کفر کے لیے مسلم ’’انتہا پسند‘‘ جہادی اور بنیاد پرست تھے مگر اب صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ اب اداکاروں کو بھی ’’انتہا پسند‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک فلم ساز نے ہندوئوں کے اوتار شری کرشن پر ایک فلم بنانے کا اعلان کیا اور اس کردار کے لیے بھارتی اداکار عامر خان کو منتخب کیا۔ اس پر ہندوئوں نے یہ بحث شروع کردی کہ کیا ایک مسلمان شری کرشن کا کردار ادا کرسکتا ہے؟ اس بحث میں سیکولر ازم کے علمبردار شاعر اور مکالمہ نگار جاوید اختر کود پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ہالی وڈ کی ایک فلم میں شری کرشن کا کردار ایک عیسائی نے کیا ہے۔ چناں چہ ایک عیسائی اداکار شری کرشن کا کردار ادا کرسکتا ہے تو ایک مسلمان کیوں نہیں کرسکتا۔ اس پر ہندوئوں نے عامر خان اور جاوید اختر دونوں کو ’’انتہا پسند مسلمان‘‘ قرار دے دیا۔ حالاں کہ عامر خان نے ایک ہندو خاتون کو مسلمان کیے بغیر اس سے شادی کی ہوئی ہے اور جاوید اختر خود کو لامذہب یا سیکولر کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے لیے اسامہ بن لادن اور عامر خان اور ملا عمر اور جاوید اختر میں کوئی فرق نہیں۔