مجھے میرا گلستان لوٹا دو

44

 

آئو میں تمہیں آج اپنے گلستاں کی داستان سنائوں… جہاں پھول کھلتے تو اس کی مہک دنیا بھر کی تتلیوں کو متوجہ کرتی ۔ قدرت اپنے رنگ دکھاتی تو ہزاروں دیوانے لپکتے ،پہاڑوں کی چوتیوں سے بہتے چشموں کے پانی میں جب سورج کی روشن کرنیں پڑتیں تو یوں محسوس ہوتا جیسے رات کے ستارے ان کو اپنی جھلک دکھانے کو بے تاب ہوں ۔ بلند و بالا پہاڑ سبز چادر اوڑھتے تو بہار کے رنگ اور زیادہ کھل اٹھتے ۔ مغل بادشاہوں کے دور میں خیر یوں پہلے جہاں ہر طرف امن و سکون تھا ۔ اگر کبھی خزاں اپنا رخ اس نگر کی طرف موڑنے کی کوشش کرتی تو اس نگر کے مکین غمگین ہو جاتے ۔ اپنے ارد گرد پھولوں ، تتلیوں کو نہ دیکھ کر اداس ہو جاتے۔بہار کے لوٹ آنے کا انتظارکرتے۔
پہاڑوں سے بہتے دریا اور ندیاں مدتوں سے بہتی آ رہی ہیں ۔ اور اب بھی رواں دواں تھیں ۔ لیکن خزائوں سے بہاروں کی خوشبوئوں کے دیس میں خاموشی کا سناٹا چھا گیا ۔ ان کے ستارے رات کو بھی اپنے پر پھیلانے سے ڈرنے لگے ۔ظلم کی آندھی نے امن کے بادلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنا راج قائم کر لیا ۔ ہنستا بستا نگر ویرانی اور خوف کی علامت بن گا ۔ ننھی منی تتلیوں کو ان کے نگر سے جلا وطن کردیا گیا ۔ ہاں وہ رنگ برنگ تتلیاں اپنے خوں سے ہی رنگ گئی ۔ قدموں تلے روندھ دی گئیں۔ گلیاں ویران ہو گئیں ۔ تڑپتی تتلیاں فریاد کرتی رہیں ۔ صیاد سے رہائی کی التجائیںکرتی رہیں ۔ اپنے خوبصورت نگر کو بچانے کے لیے ہر جتن کر ڈالا ۔ ہر ایک کے در پے جا کر اپنا خوشیوں کا مسکن مانگا ۔ اپنا بہاروں کا وطن مانگا ۔ اپنی سر سبز شاداب دھرتی مانگی ۔ لیکن جواب میں گولیوں کی گونج ملی ۔ بارود کی خوشبو دی گئی ۔ ہمارا گھیرائو کر لیا گیا ۔ ہمیں بھوکا پیاسا قید کر دیا گیا ۔
بھیا کہاں ہو دیکھو… یہ وہی حسین وادی ہے نا جس یں ہم کھیلا کرتے تھے ۔ بھیا دیکھو تو سہی ۔ لیکن بھیا تم تو میرے پاس تھے ہی نہیں ۔ تمہیں کیسے جلتا گھر اور اس کے اجڑنے کی داستان سنائو… بھیا مجھے بچانے کب آئو گے ۔ بھیا کہیں میںمر ہی نہ جائوں ! تم نجانے کس وادی میں میرے لیے امن کی گڑیا لینے کے لیے گئے ہو ۔ تم زندہ بھی ہو یا تمہیں دشمنوں نے قید کر لیا۔یہاں دوسرے بچوں کی طرح اندھا کر دیا۔ بابا! آپ تو کارگل کے پہاڑوں پر شہید ہو گئے ۔ برف کا کفن اوڑھ کر سو گئے ۔ بابا آپ تو اپنی بیٹی اور دھرتی سے بہت محبت کرتے تھے ۔ بابا!ہمارا بہتا ہوا خون دیکھیں بابا! دشمنوںنے ہمارے گھر جلا دیے ، ہماری مائوں کو ہم سے چھین لیا ہے ۔ یہاں سب رو رہے ہیں بابا!… امن کے ٹھیکیداروں نے ہمیں اس حال پر پہنچا دیا ہے میں افغانستان میں ہوں تو ابو گریب جیل میں بند… عراق میںہوں تو دن رات ظلم و ستم ۔ فلسطین میں ہوں تو ہر روز صلیب پر لٹکائی جاتیہوں ۔ کشمیر میں ہوں تو اپنے پیاروں کے لاشے اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہوں ۔ کیونکہ میں مسلمان ہوں!!
افغانستان میں لاکھوں لوگوں پر بمباری کرنے والا قاتل نہیں انصاف کا پجاری ہے ۔ فلسطین میں لاشے گرانے والا دہشت گرد نہیں امن کا دعویدار ہے … کشمیر میں گھر جلانے والا انتہا پسند نہیں ۔ اخوت ومحبت کا ڈنکا بجانے والا ایوارڈ حاصل کرنے والا… عراق میں بموں کی بارش کرنے والا مذہبی جنونی نہیں ہے دنیا کا منصف اور ثالث ہے ۔ بابا!! اب میں تمہیں بہاورں کے نگر کا اور اپنا جرم بتاتی ہوں ۔ اس نگر کے مکینوں کا جرم ۔ ان کا جرم خوشیوں کو بانٹنا تھا ۔ قدرت کے گلشن کو صرف اس کی خوشبوئوں ،رنگوں سے آباد کرنا تھا ۔بہاروں کے راج کی پاکستان سے الحاق پاکستان کی تکمل کی تھی ۔
بھلا خزائوں کے پرستار یہ سب کیسے برداشت کرتے…؟
میں تمام اہل اسلام سے مخاطب ہوں بس ایک لمحے کو ذرا اپنے اپنے نگر کو دیکھو! آج وہاں کس کا راج ہے؟ کیا تمہیں بہاروں کی تمنا ہے! کیا تم خوشبوئوں کی مہک چاہتے ہو؟ تو تمہیں ایک فرض ادا کرنا ہوگا۔
’’خدارا ہمارے اجڑے نگر کو بچا لو ۔ خاموشی توڑ دو ۔ رنگ برنگ کی تتلیوں کو ان کا مسکن لوٹا دو ۔ امن کی چادر پھیلا دو ۔ ہمیں آزادی دلوا کر اپنی تکمل کر لو ۔ تم ایسا کرو گے تو اس نگر کے باسی تمہارے نگر کو خوشیوں سے بھر دیں گے ۔ تمہیں نئے موسموں کی نوید دیں گے ۔ ہاں! تمہیں اپنے اپنے نگرکو ظلمت کے راج سے بچانے کے لیے ایسا کرنا ہو گا ۔ ورنہ ظلم کے اندھیرے اب تمہارے نگر کی طرف بڑھ رہے ہیں… قدم بقدم ان قدموں کو روکنا ہے تو
خدارا میرے نگر کو بچا لو
میرا گلستان میرا
کشمیر مجھے لوٹا دو