صحت مند طرز زندگی

1192

 

قرآن و سنت کی روشنی میں چند اہم اصول جو ہمیں موٹاپے سے بچا سکتے ہیں

پاکستان بھر میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں 26 فیصد عورتیں اور 19 فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں اور بچوں میں یہ شرح 10 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ (The News “Obesity on the increase in Pakistan, Jan 9, 2013)
طبی تحقیق کے مطابق موٹاپا ایک بہت ہی پیچیدہ بیماری ہے جو مزید کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے جن میں دل کی بیماریاں، جوڑوں کا درد، مختلف اقسام کے کینسر اور ذیابیطس قابل ذکر ہیں۔ ذیبابیطس کو تو ام الامراض‘‘ کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپے سے دنیا بھر میں شرح اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق موٹاپا دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔
موٹاپے کی کئی وجوہات ہیں جن میں غیر متوازن غذا کا استعمال، بسیار خوری، کاہلی و سستی سے بھرپور لائف اسٹائل اور روز مرہ زندگی کے مسائل پر صحت منددانہ انداز میں قابو پانے کی صلاحیت میں کمی شامل ہیں۔ غذا کے سلسلے میں آج کل مختلف اقسام کے ڈائٹ پلان موجود ہیں جو اکثر غیر متوازن غذا پر مشتمل ہوتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ اس پلان پر عمل کرکے لوگ اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ کئی لوگوں کو واقعی ان پر عمل ہونے سے وقتی فائدہ بھی پہنچتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ جسیے ہی انہوں نے اس ڈائٹ پلان پر عمل درآمد چھوڑا وزن دوبارہ بڑھ گیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا۔ ان پلانز پر تمام عمر عمل کرنا بھی مشکل ہوتا ہے اسی لیے کہ یہ چند ماہ تک کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
البتہ کچھ ماہرین ایسے بھی ہیں جو اپنے ڈائٹ پلان پر متوازن غذا کو سامنے رکھ کر بناتے ہیں اور اس کے ساتھ متحرک طرز زندگی اور اسٹریس کو قابو کرنے کو مشورہ بھی دیتے ہیں۔ برصغیر کے مشہور ماہر غذائیت ایم کے گپتا اپنی کتاب Foods they are killing aer hilling you slowely but steadily میں صحت مند زندگی گزارنے کے تین سنہری اصول بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہا
۱۔ چینی، مصالحے، چکنائیاں، نمک اور تمباکو نوشی کو کم سے کم رکھیں۔
۲۔ باقاعدگی سے ورزش کریں۔
۳۔ ذہنی دبائو اور تنائو سے دور رہیں۔
دراصل یہی طریقہ کار مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انسان کے پورے طرز زندگی کو بدل دیتا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات مین صحت مند زندگی گزارنے، بیماریوں سے محفوظ رہنے اور ان کے علاج کے اہم نکات موجود ہیں۔ لہذا اس میں موٹاپے جیسے گھمبیر مسئلے کا حل بھی ضرور ملے گا۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس میں نوع انسانی کے ہر مسئلے کا حل ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ’’اور ہم نے آپ پر وہ عظیم کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا واضح بیان ہے‘‘۔ (النحل 79) اس کے علاوہ آپ ﷺ کا فرمان ہے۔ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو‘‘۔ (بخاری: 747:2)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت میں وہ کون سے طریقے ہیں کہ جن پر عمل کرکے ہم وزن کی زیادتی یا موٹاپا میں مبتلا نہ ہوں اور اگر ہم اس کا شکار ہو چکے ہیں تو کیسے اپنے وزن کو کم کریں؟ یہ اس لیے ہے کہ ہم ان طریقوں پر عمل کرکے قوی مومن بن سکیں اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکیں کیونکہ حدیث میں کہ طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ (ابن ماجہ)
قرآن و سنت کی روشنی میں تین سنہرے اصول درج ذیل ہیں انہیں اپنائیں اور تمام عمر کے لیے صحت مند زندگی اور وزن کے مالک بن جائیں۔
۱۔ متوازن غذا پر مشتمل اپنا منفرد و ڈائٹ پلان تشکیل دیں۔
ڈاکٹر طاہر القادری اپنی کتاب قرآن اور جدید سائنس میں رقم طراز ہیں کہ اچھی صحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان ایسی خوراک کا انتخاب کرے جو متوازن ہو اور تمام جسمانی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کر سکے اور یہ حلال غذا جن کی ترغیب قرآن و سنت سے ملتی ہے وہی دراصل انسانی جسم کے لیے حیرت انگیز حد تک مفید ہیں۔ (صفحہ 594)
قرآن میں ہمیں مختلف اقسام کے گوشت سبزیوں اور پھلوں کا ذکر ملتا ہے۔ حیات طیبہ کا مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ آپ نے چھوٹے اور بڑے گوشت کے استعمال کیا ہے لیکن آپ نے سفید گوشت یعنی مچھلی اور پرندوں وغیرہ کا گوشت) کو ترجیح دی۔ پرندوں کے گوشت کو تو قرآن میں جنت کی خوراک کہا گیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے اور انہیں پرندوں کا گوشت ملے گا جتنا وہ چاہیں گے (الواقعہ: 21) اس کے علاوہ مختلف اقسام کے سبزیوں اور پھلوں کا ذکر بھی ملتا ہے جییس کھیرا ساگ مسور انجیر زیتون انار انگور اور کھجور وغیرہ۔ جنت کی نہروں میں پانی شراب دود اور شہد کا ذکر ہے۔ شہد کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ (النحل 49)۔ مطالعہ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ صبح نہار منہ نیم گرم پانی میں شہد ملا کر پیتے تھے اور یہ کہ آپ نے اناج میں جو کو پسند فرمایا کبھی تلبینہ (جو کا دلیہ دودھ اور شہد کے ساتھ) کی شکل میں تو کبھی روٹی کی صورت اور کبھی ستو پئے۔ آج وزن گھٹانے کے لیے نہار منہ گرم پانی میں شہد پینے اور جو کے استعمال سے کسی کو انکار نہیں ہے۔
اس کے علاوہ آپ نے تمام عمر کبھی چھلنی کا استعمال نہ کیا اور میدہ تو چکھا بھی نہیں۔ آج ہم دن رات میدے کی بنی اشیاء مثلا مختلف اقسام کی مٹھائیاں، کیک بسکٹ پراٹھے نوڈلز اور پزا وغیرہ کھا رہے ہیں۔ اور چھلنی کا استعمال بھی خوب کرتے ہیں تو پھر ہم کیسے صحت مند رہ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مغیث انجم دل کے عوارض کی شرح میں اضافے کے بارے میں کینیڈا کی شیوت فائونڈیشن برائے میڈیکل ریسرچ 1947ء کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دل کے امراض میں مسلسل اضافے کا اصل سبب چھنا ہوا اور مل کے ذریعہ پسا ہوا گندم کا آٹا ہے۔ (دل کی بیماریوں اور ان کا علاج، صفحہ 20) آپ کے حلیہ مبارک کے بارے میں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے، بتانے والے بتاتے تھے کہ آپ کا وزن بڑھا ہوا نہ تھا اور یہ کہ آپ کا پیٹ کمر سے لگا ہوا تھا۔ آج اگر ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں تو ایسے کتنے لوگ نظر آئیں گے جو چالیس سال کے بعد بھی چپکے ہوئے پیٹ کے مالک ہیں۔ بلکہ آج ہم اپنے بڑھتے ہوئے پیٹ ہی سے سب سے زیادہ پریشان رہتے ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ آخر جب وزن بڑھنا شروع ہوتا ہے تو پیٹ سے ہوتا ہے سوچئے اگر ہم بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے میدے کا اتنا زیادہ استعمال زندگیوں سے نکال دیں بھوک رکھ کر کھانا کھائیں اور صرف اس وقت ہی کھائیں جب بھوک لگی ہو تو ہمارے وزن کو اعتدال میں رکھنے یا بڑھے ہوئے وزن کو گھٹانے سے کیا چیز روک سکتی ے اور سنتوں پر عمل کرنے کا اجر بھی ملتا رہے گا۔
اپنا ڈائٹ پلان تشکیل دیتے وقت ان نکات کا خیال کرھیں۔
الف) حلال اور طیب خوراک کا استعمال
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مواقع پر انسان کو حلال اور طیب کھانا کھانے کی ترغیب دی ہے۔ سورہ النحل میں فرمایا ہے پس اے لوگو اللہ نے جو کچھ حلال اور طیب رزق تم کو بخشا ہے اسے کھائو اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو اگر تم واقعی اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔ 114-16) سورہ المائدہ میں فرمایا جو کچھ حلال و عیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھائو اور پیو (148-2) ان تمام آیات میں حفظان صحت کے ایک بڑے اہم اصول کی بات کی کئی ہے کہ حلال اور پاک کھانا کھائو۔ حلال اور حرام کی تفریق تو اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتا دی ہے لہٰذا وہ تمام کھانے جو اللہ نے حلال قرار دیے ہیں وہی ہمیں کھانے ہیں اور جن حرام چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے رک جانا ہے کھانے میں دوسری بات ہے کہ کھانا پاک ہو۔ پاک کھانے سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں مولانا مودودی اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں کہ
جو چیزیں اصول شرعی میں سے کسی قاعدے کے ماتحت ناپاک قرار پائیں یا جن چیزوں سے ذوق سلیم کراہیت کرے یا جنہیں مہذب انسان سے بالعموم اپنے فطری احساس نفاست کے خلاف پایا ہو۔ ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔
(صفحہ 285)
ب) بسیار خوری سے بچا جائے
قرآن مجید میں ہر طرح کے اسراف کو ناپسند فرمایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کھائو اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔
بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیںکرتا ۔ (الاعراف:31) آپ ؐ نے فرمایا’’ اپنی ڈکار کم کرو ، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہو گا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے ۔ ‘‘(ترمذی) یہ صحت مند رہنے کا بہت اہم اصول ہے لہٰذا جب بھوک لگے صرف اسی وقت کھانا کھانا چاہیے اور ابھی کچھ بھوک باقی ہو تو ہاتھ روک لے ۔ جیسا کہ آپ ؐ نے فرمایا’’ ایک حصہ کھانا ، ایک حصہ پانی اور ایک حصہ سانس کے لیے خالی رکھو‘‘(ترمذی) یہ اصول وزن گھٹانے میں اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے ۔
اس حدیث سے متعلق ڈاکٹر خالد غزنوی اپنی کتاب ’’ علاج کے لیے سوچنے اور عمل کرنے کے قابل ہے ، کہ میڈیکل کالج میں علم طب کے ایک استادکرنل محمد ضیاء اللہ ہواکرتے تھے ۔ ان کے پاس ذیابیطس کے ایک مریض زیر علاج تھے ۔ مریض نے کرنل صاحب سے مشورہ کیااور لندن کے ایک پروفیسر ایلن کے پاس گیا جو کہ اس بیماری کے علاج کے لیے عالمی شہرت رکھتے تھے ۔ پروفیسرایلن نے مریض سے معلوم کیا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے ۔ مریض نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے اور پاکستان سے آیا ہے ۔ پروفیسر نے یقین نہ کیا تو مریض نے کہا کہ اسے جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پروفیسر نے جواب دیا کہ اگر تم مسلمان ہو تو تم کو ذیابیطس نہیں ہو سکتا اس لیے کہ تمہارے نبی ؐ نے کم کھانے کی تاکید کی ہے ۔ جس نے بھی اس پر عمل کیا اسے یہ بیماری نہیں ہو سکتی اور اگر تم نے اپنے نبی ؐ کی بات پر عمل نہ کیا ، بسیار خوری کی تو پھر اپنے مذہب کو بدنام نہ کرو ۔ ( صفحہ 350) اسی سلسلے میں مزید لکھتے ہیں کہ وزن کی زیادتی کی وجہ سے دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے لہٰذا دل کے امراض سے بچنے کے لیے موٹاپے سے بچنا ضروری ہے ۔
ج) اکثرپانی کا استعمال کریں ۔
اکثر اوقات ہم دن بھر میں چند گلاس سے زیادہ پانی نہیں پیتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ یا پھر ہم اپنی پیاس کو بھی کھانے سے بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا جب بھوک کا احساس ہو تو پہلے پانی پی کر دیکھیں کہ فرق پڑتا ہے یا نہیں اگر پانی پینے سے آپ کی بھوک کا احساس ختم ہوجائے تو سمجھ لیں کہ آپ کو پیاس لگی تھی نہ کہ بھوک ۔ دن بھر میں آٹھ گلاس پانی ضرور پئیں اور گرمی کے موسم میںحسب ضرورت مقدار بڑھا دیں۔
ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا منفرد ڈائٹ پلان تشکیل دیںجو آپ کی عمر ، بجٹ اور پسند کے مطابق ہو تاکہ آپ اس پر باقی تمام عمر عمل پیرا ہو سکیں ۔
2: متحرک انداز زندگی اپنائیں:
آج کے ترقی یافتہ دور میں ذرائع نقل و حمل کی سہولتوں اور گھریلو کام کاج کو نمٹانے کے لیے مشینی آلات کی فراوانی نے نہ صرف ہم کو جسمانی مشقت سے بچا لیا ہے بلکہ ہمیں بے حد سست اور کاہل بھی بنا دیا ہے ۔ اور اس سستی اور کاہلی کاپھل ہمیںجسمانی چربی اور موٹاپے کی صورت ملا۔ لہٰذا متوازن غذاکے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی زندگیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید میں اکثر جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو چلنے پھرنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا’’ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو ، اس کی چھاتی پر اور کھائو اس( اللہ) کا رزق ، اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے ۔‘‘( سورہ الملک:15) چنانچہ اپنے روز مرہ کے کاموں کو خود کرنے کی عادت ڈالیں مثلاً اگر پانی کی طلب ہو تو بجائے دوسرے کو کہنے کے خود اٹھ کر پئیں ۔ یقین جانیں آپ کے یہ چند قدم بھی آپ کی صحت بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اس کے علاوہ گھر کی صفائی ، ستھرائی اوردیگر کام خودکریں ،لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں ۔ بچوں کے ساتھ کھیلیں ، قریبی جگہوں پر جانے کے لیے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیں ۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی ورزش کا آغاز کریں ۔ مرد حضرات جو سارا دن کرسی پر بیٹھے دفتری کام میںمصروف رہتے ہیں ۔ ان کو صبح سویرے یا شام کوجسمانی ورزش کو اپنا معمول بنانا چاہیے ۔ اس کے لیے ۔
الف) اپنا منفرد ایکٹیوٹی پلان(Unique activity plan) بنایے ۔
جس طرح ہر انسان کی ذمہ داریاں ، ضروریات اور مصروفیات مختلف ہوتی ہیں اسی طرح ہر کسی کی جسمانی صحت، دلچسپیاں اور facilities بھی الگ ہوتی ہیں ۔لہٰذاہمیں ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا منفرد منصوبہ ترتیب دینا چاہیے جو ہمارے طرز زندگی میں فٹ ہو سکے اور پھر وہ ہماری باقی تمام زندگی کا حصہ بن جائے ۔ اس پلان میںکچھ وقت لازماً کسی نہ کسی ورزش کے لیے مختص کریں ۔ ورزش کا انتخاب اپنی عمر ، پسند اورماحول کے مطابق کریں ۔ چہل قدمی کرنا ، سیڑھیاں چڑھنا، رسی کودنا ، سائیکل چلانا ،بچوں کے ساتھ کھیلنا پھر کسی جم میں ایرو بک کلاسز وغیرہ لینا سب اچھی ترجیحات ہو سکتی ہیں ۔ آپ چاہیں تو مختلف ورزشوں کوبدل بدل کر بھی کر سکتے ہیں تاکہ آپ کی دلچسپی بر قرار رہے ۔ ڈاکٹر مغیث انجم دل کے امراض سے بچنے کے لیے ورزش اور جلد کی مالش کا با قاعدگی سے انتظام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
(ب) چہل قدمی کرنا:
چہل قدمی کرنا سب سے بہترین اور محوظ ورزش ہے ۔ اپنی عمر ، ماحول اور ضروریات کے مطابق جگہ کا انتخاب کریں اور کم از کم ہفتے میں 4ے5 دن 20منٹ سے 40 منٹ تک چہل قدمی کریں ۔ یاد رہے کہ شروع میں کم وقت سے آغاز کریں اور رفتہ رفتہ وقت اور دونوں کو بڑھاتے جائیں ۔ یوں تو صبح کا وقت چہل قدمی کے لیے سب سے مناسب ہے ۔ جب ماحول میں خاموشی اور آکسیجن کی کثرت ہوتی ہے لیکن گر یہ آپ کے لیے مناسب نہیں تو پھر آپ کے لیے شام یا رات کا وقت بہتر رہے گا خاص کر رات کا کھانا اگر جلدی کھا لیا جائے اور اس کے بعد 15 سے 20 منٹ کی واک کی جائے تو اس کے بڑے فائدے ہیں ۔ عربی کا ایک مقولہ ہے کہ ’’ دوپہر کا کھاناکھائو تو لیٹ جائو‘ رات کا کھانا کھائو تو چہل قدمی کرو ۔ ‘‘
مطالعہ حیات طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ پیدل بہت زیادہ چلتے تھے اور اپنے کام خود کیا کرتے تھے اسی لیے آپ ؐکو کبھی واک کرنے یا ورزش کے لیے علیحدہ وقت مختص کرنے کی ضرورت نہ پڑی ۔
(۳) اپنے اسٹریس کو بہتر طور پر مینیج کرنا سیکھیں :
مطالعہ کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان Stress کی حالت میں ایسے کام کرتا ہے جو اس کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ کچھ لوگ پریشانی میںکھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں جبکہ دوسرے بے تحاشہ کھانے لگتے ہیں اور زیادہ تر وہ جنک فوڈ ہی کھاتے ہیں جو جلد اور آسانی سے میسر آ جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں کی روز مرہ کی روٹین خراب ہو جاتی ہے ۔ وہ ایسے وقت میں اپنی ورزش ، چہل قدمی اور دوسری صحت مندانہ روٹین کو چھوڑ دیتے ہیں یا ڈپریشن کی صورت میں تو خاص کر آپ جس قدرخود کو جسمانی اورذہنی طور پر مصروف رکھیں گے اسی قدر جلد اس کو بھگانے میں کامیاب ہوں گے ۔ اس سلسلے میں قرآن و حدیث سے ہمیں بہترین رہنمائی ملتی ہے ۔ چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے ۔
1۔ قرآن مومنین کے لیے شفاء ہے :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ اورہم نے قرآن نازل کیا ہے جو تمام مومنوںکے لیے شفا اوررحمت ہے ‘‘ بقول ڈاکٹر خالد غزنوی’’ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا عام طور پر ایک لمبی صحت مند زندگی گزارتا ہے کیونکہ قرآن مجید نے ہر اس چیز کی تاکید کی ہے ۔ جو مفید ہے ۔ قرآن ہمیں بہترین غذا کا نمونہ بتاتا ہے ۔ بیماری و تندرستی کا محافظ ہے اور اس امرکی گارنٹی دیتا ہے کہ اگر ہم اللہ کے دوست بن جائیں تو وہ ہمیں رنج و غم اور دہشت سے محفوظ رکھے گا ۔ ( طب نبوی اور جدید سائنس،جلد دوئم:صفحہ30)
ب۔ صبر ، نماز اور روزے سے مدد طلب کرنا :
سورہ البقرہ میں ارشاد ہے کہ ’’( اور صبر اور نماز سے مد د لو) اپنی دل پسند خوراک اور آرام طلبی کو چھوڑ کر صحت مندانہ طرز زندگی گزارنا شروع میں نفس پر بھاری ہو گا ایسے میں صبرکرنابے حد ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ہی نماز اداکرنا کہ یہ ذکر الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ نماز میں بندہ اپنے رب سے بے حد قریب ہو جاتا ہے خاص کر سجدے کی حالت میںجیسا کہ فرمان الٰہی ہے (سورۃ العلق) یعنی سجدہ کرو اور قریب ہو جائو۔ اس کے علاوہ روزہ بھی نفس پر قابو پانے اور وزن گھٹانے میںمدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ روزہ معدے کو بیکار اجزا سے صاف کرتا ہے اور اس طرح موٹاپے میں کمی کا سبب بن ت ہے ۔
(ج) با قاعدگی سے قرآن مجید کی تلاوت اور س پر غور و فکر کریں ، صدقہ و زکوٰۃ دیں ، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں اورسے یاد کریں کیونکہ اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں( الرعد:۲۸) اعلیٰ اخلاقی اقدار مثلاً خیر خواہی ، احسان و ہمدردی ، نرمی و انکساری اور غم خواری کی آبیاری کریں ۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے خوب خوب دعائیں مانگیں کیونکہ دعائیں مومنین کا ہتھیار ہیں ۔
ان تمام طریقوں پر پورے یقین اور مستقل مزاجی سے عمل کرتے ہوئے ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کی طرف اپنا سفر شروع کردیں ۔