ٹرانسپورٹرز کی ہلاکت کا مقدمہ ایف ڈبلیو او کے اہل کاروں کے خلاف درج

110

کراچی کے قریب کاٹھور کے مقام پر بدھ کو سیکورٹی اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین ڈرائیورں کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں ٹول ٹیکس وصول کرنے والے عملے اور ان کی حفاظت پر مامور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کے اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ٹرانسپورٹرز گزشتہ کئی روز سے سراپا احتجاج تھے۔ واضح رہے کہ ایف ڈبلیو او پاکستان کی مسلح افواج کا حصہ ہے جو انجینئرنگ اور تعمیرات سے منسلک ہے۔

بدھ کو یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب کاٹھور کے مقام پر ٹول ٹیکس وصول کرنے والے عملے نے عدالتی احکامات کی روشنی میں مقررہ وزن سے زیادہ سامان رکھنے والے ٹرالرز کو کراچی حیدرآباد موٹروے پر جانے سے روک دیا تھا۔ ٹرانسپورٹرز اور انتظامیہ کے درمیان یہ تنازع کئی روز سے چل رہا تھا جس پر نوبت ہنگامہ آرائی اور پھر فائرنگ تک جاپہنچی جس سے تین ہلاکتیں اور بعض افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

مقدمے کے مدعی اور ٹرانسپورٹرز یونائیٹڈ الائنس کے نائب صدر شیر ایوب خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف ڈبلیو او کے سیکورٹی اہلکاروں نے احتجاج کرنے والے ٹرانسپورٹرز پر براہ راست فائرنگ کی ہے اور اس بات کو انتظامیہ نے بھی تسلیم کرلیا ہے جس پر ان کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

شیرایوب خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کا موقف یہ تھا کہ عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک پہلے سے نافذ العمل لوڈ کی حد برقرار رکھی جائے۔ جس پر کئی روز سے ٹرانسپورٹرز احتجاج کررہے تھے۔انہوں نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ ٹول ٹیکس کی وصولی اور مال سے لدی گاڑیوں کی روک تھام نیشنل ہائی وے اتھارٹی(این ایچ اے) اور موٹر وے پولیس کا کام ہے۔ لیکن یہ کام ایف ڈبلیو او سے لیا جارہا ہے جس کی کوئی منطق نہیں ہے۔

ادھر آل پاکستان گڈز آنرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چودھری اویس نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چوہدری اویس کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو مشتعل مظاہرین سے اس طرح کا سلوک کرنے کے بجائے ان سے مذاکرات کا راستہ اختیار کربا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کے ضیاع پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس واقعے کو لسانی رنگ دینا غلط ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان ہی کی ایسوسی ایشن کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے زائد وزن لے کرموٹر وے سے گزرنے والی گاڑیوں کے وزن کی حد مقرر کی تھی جس پر بعض لوگوں کو تحفظات تھے۔ہلاکتوں کے بعد کراچی حیدرآباد موٹر وے پر ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کیا اور دونوں ٹریک بند کردیے تھے۔ جس کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔ رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ کی قیادت میں وفد اور ٹرانسپورٹرز کے مذاکرات کے بعد موٹروے کو کھول دیا گیا ہے۔

مذاکرات میں شامل رکن صوبائی اسمبلی مرتضیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ مذاکرات اپنی جماعت کی قیادت کے کہنے پر کیے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے پر ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں گی۔

ہلاکتوں پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی بڑی تعداد اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کررہی ہے۔ انسانی حقو ق کے کارکنوں، عام شہریوں، سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے۔
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے نزدیک کاٹھور میں ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کا نوٹس لیا ہے پی پی پی چیئرمین نے وزیراعلیٰ سندھ سے معاملے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں جو بھی ملوث ہو اسے قانون کی گرفت سے نہیں بچنا چاہیے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ تاہم اس واقعے پر اب تک فوج کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ہلاک شدگان کا تعلق شمالی وزیرستان میں ان کے حلقہ انتخاب سے تھا۔