امن کا نوبیل انعام ایتھوپیا ئی وزیر اعظم کو مل گیا

44
اسٹاک ہوم: نوبیل کمیٹی کی سربراہ امن انعام کا اعلان کررہی ہیں‘ چھوٹی تصویر ایتھوپیائی وزیراعظم کی ہے
اسٹاک ہوم: نوبیل کمیٹی کی سربراہ امن انعام کا اعلان کررہی ہیں‘ چھوٹی تصویر ایتھوپیائی وزیراعظم کی ہے

اوسلو ؍ ادیس بابا (انٹرنیشنل ڈیسک) ناروے کی نوبیل امن کمیٹی نے رواں برس کا امن انعام ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوبیل امن کمیٹی کے مطابق انہیں یہ انعام ہمسایہ افریقی ملک اریٹیریا کے ساتھ سرحدی تنازع کے حل میں پیش قدمی پر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل رواں برس امن کے نوبیل انعام کے لیے 301 امیدواروں کے ناموں پر غور ہوا، تاہم کمیٹی نے ابی احمد کی امن اور تعاون سے متعلق کاوشوں کو سرہاتے ہوئے یہ انعام اُن کے نام کر دیا۔ واضح رہے کہ ایتھوپیا اور اریٹیریانے جولائی 2018ء میں برسوں پرانی دشمنی، 1998ء اور 2000ء کی سرحدی جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات بحال کر لیے تھے۔ نوبیل انعام کی مالیت 9 لاکھ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ انعام انہیں 10 دسمبر کو اوسلو میں پیش کیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ہانگ کانگ میں جمہوریت نوازوں کے سرگرم رہنما بھی امن انعام کے لیے فیورٹ تھے۔ دوسری جانب ایتھوپیائی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نوبیل انعام برائے امن جیتنے پر قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ یہ انعام حقیقت میں مشترکہ اور اجتماعی کوششوں کی فتح کی علامت ہے اور ایتھوپیا کے اندر امید کا ایک نیا افق پیدا کرے گا جو قوم کی خوشحالی کا سبب بنے گا۔ ایتھوپیا میں ابی احمد نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا حکم بھی دیا۔