’’وزیراعظم اور ضعیف و بیمار ماں‘‘

141

الطاف شکور

وزیر اعظم عمران خان محمد بن قاسم نہیں بن سکتے تو کم از کم مودی بنیں، بات تو آپ کو عجیب لگے گی مگر زیادہ نہیں چھ سال قبل ماضی میں جائیں (آج انٹرنیٹ کے ذریعے اس واقعات کا تفصیلی ریکارڈ حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے) توآپ کو پتا چلے گا کہ ایک بھارتی خاتون جس نام دیویانی کھوبراگڈے تھا امریکا میں ویزہ فراڈ، ہائوسنگ اسکیم فراڈ میں وہ اور اس کا باپ ملوث پایا گیا، بھارتی سپریم کورٹ میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ دیویانی کھوبراگڈے کو قواعد میں ترمیم کرکے بھارتی خارجہ سروس میں اپنی پسند کی پوسٹنگ دی گئی تھی اور 2013ء میں بھارت واپسی کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اس کی بیٹیوں کے دہری شہریت پر حامل امریکی پاسپورٹ ضبط کرلیے تھے۔ ان تمام واقعات کے باوجود موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جب اپوزیشن میں تھا تو اس نے اپنی قوم کی بیٹی دیویانی کھوبراگڈے کی محض جامہ تلاشی لینے پر حکومت اور قوم کے ساتھ مل کر ایسا جارحانہ رویہ اپنایا تھا کہ جس کے باعث امریکی حکومت اسے رہا کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ دیویانی کھوبراگڈے نے امریکا میں رہتے ہوئے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی جس کے باعث امریکی پولیس نے اس کو گرفتارکرکے اس کی جامہ تلاشی لی تھی جبکہ پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے نہ کوئی جرم کیا تھا، نہ اس پر امریکی عدالت میںکوئی جرم ثابت ہوا تھا مگر پھر بھی وہ 17 سال سے قید ناحق بھگت رہی ہے۔ عمران خان اپنے اندر ہمت اور جراء ت پیدا کریں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قوم کی عزت و غیرت ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کی بات کریں۔
عمران خان نے دورہ امریکا کے دوران میں ایک انٹرویو میں فخر سے کہا کہ میں نے امریکی صدر سے ملاقات میں امداد دینے پر بات نہیں کی۔ خان صاحب، پاکستانی قوم اپنی بیٹی عافیہ کے اغوا 2003ء سے اپنے حکمرانوں سے ’’ڈالر نہیں، عافیہ‘‘ یعنی ہمیں ڈالر نہیں اپنی غیرت، عزت اور ناموس عافیہ چاہیے کا مطالبہ کررہی ہے۔ جب آپ خود اپوزیشن میں تھے تو عوام کے اس نعرے ’’ڈالر نہیں، عافیہ‘‘ سے نا صرف مکمل طور پر متفق تھے بلکہ اس نعرے کے ہمنوا بھی تھے۔ مگر جب قوم نے آپ کو وزیراعظم بنادیا اور موقع آیا تو آپ نے ڈالر تو رد کردیے مگر بیٹی واپس نہیں مانگی۔ یہ اس عزت اور غیرت کا اظہار تو نہیں ہوا جس کا آپ اپوزیشن میں رہتے ہوئے دعویٰ کرتے تھے۔ ذرا سوچیے! اگر ترک حکمران طیب اردوان اور ملائیشین حکمران مہا تیر محمد کی قوم کی بیٹی امریکی جیل میں ہوتی تو کیا وہ پاکستانی حکمرانوں کی طرح خاموش رہتے؟ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرح تحریک انصاف کی حکومت تو عوام کو مایوس نہ کرے اور ملک میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ خانوں کا سلسلہ ختم کرے۔ کیا آپ اپنی وزارت خارجہ کو اتنا بھی مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ بستر علالت پر موجود ضعیف والدہ اور بچوں سے عافیہ کی فون پر بات ہی کرا دیں؟ یہ کیسی تبدیلی ہے کہ آپ دوسری مرتبہ امریکا کے دورے پرگئے اور آپ کے پاس قوم کی معصوم اور مظلوم بیٹی کے لیے وقت ہی نہیں تھا؟ عمران خان صاحب آپ کو اب عافیہ کا نام لیتے ہوئے 11 ہزار وولٹ کا کرنٹ کیوں لگ جاتا ہے؟ اس ملک میں بدنام جاسوس اور قاتل ریمنڈ ڈیوس 5 قتل کر کے چلا گیا۔ جس پر آپ اور آپ کی جماعت تحریک انصاف نے زبردست احتجاج کیا تھا۔ کرنل جوزف نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک پاکستانی
شہری کوکچل کے چلا گیا۔ کئی دوسرے جاسوس اور غدار مفت میں امریکا کے حوالے کر دیے گئے۔ قوم کی بیٹی عافیہ کی وطن واپسی کے سنہرے مواقع یکے بعد دیگر گنوائے گئے۔ کسی روز غدار وطن شکیل آفریدی کو بھی آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر امریکی اپنے ملک لے جائیں گے۔ کیا آپ کو قوم سے کیے گئے وعدے یاد دلانے کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کو اپنی انتخابی تقاریر، پہلی پریس کانفرنس اور لاتعداد ٹاک شوز میں عافیہ کی وطن واپسی کے مطالبے اور دعوے یاد دلانے کی ضرورت ہے؟ تحریک انصاف کی حکومت کے 400سے زائد دن گزرگئے ایک بار بھی فون پر عافیہ کی اپنے گھر والوں سے بات نہ کرائی گئی۔ حاضر سروس چیف جسٹس کا بیٹا اغوا ہوا اور مل گیا۔ سابق گورنر کا بیٹا اغواء ہوا اور مل گیا۔ سابق وزیر اعظم کا بیٹا اغوا ہوا اور مل گیا لیکن قوم کی معصوم بیٹی چونکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اس لیے نہ مل سکی۔ مودی سے سبق حاصل کریں۔ بھارت اپنی ایک ڈپلومیٹ کی ملازمہ کے گرفتار ہونے پر امریکا کے سامنے ڈٹ گیا اور اپنی بیٹی کو واپس لایا۔
وزیر اعظم عمران خان خود میں ہمت و جراء ت پیدا کریں۔ عافیہ سے جیل میں ملاقات کر کے دست شفقت رکھیں اور کسی کو بھی خاطر میں نہ لائیں بلکہ قوم کی بیٹی کو وطن واپس لائیں تا کہ اپنے ملک کی بیٹی اور کشمیر کی عافیائوں کے ساتھ مظالم کے سامنے دیوار کھڑی کی جاسکے۔ کیا ڈاکٹر عافیہ کی بستر علالت پر بیٹی کے انتظار میں بیٹھی ضعیف والدہ کے کوئی حقوق نہیں؟ ساڑھے تین برسوں سے ایک ضعیف والدہ کی اپنی بیٹی سے جیل سے فون کال تک نہیں کرائی جا رہی۔ کیا وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی ضعیفوں کے حقوق نہیں معلوم کہ امریکا کے دو دوروں کے دوران نہ عافیہ سے ملے اور نہ روانگی پر ضعیف و بیمار والدہ کو تسلی دی؟ کیا آپ ڈاکٹر عافیہ پر مظالم کا تذکرہ اپنی انتخابی تقاریر اور ٹاک شوز میں صرف عوام کی ہمدردی اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے؟
کشمیر کے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں اپنے سامنے اپنے بچوں کو خاک اور خون میں تڑپتا دیکھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ ضعیفوں کا عالمی دن تو مناتی ہے مگر اسے ضعیفوں کے حقوق نظر کیوں نہیں آتے؟ امریکا، اسرائیل اور بھارتی حکومتوں کی ملی بھگت پر مبنی پالیسیاں دنیا بھر کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ کا شکار معصوم پاکستانی قوم کی ذہین بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ایک سازش کے تحت بنایا گیا۔ عافیہ کیس پر امریکی عدالتوں میں انصاف کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اب بھارت کشمیر میں انسانی حقوق اور ضعیفوں کے حقوق کو بری طرح پامال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ اگر قیدیوں کے حقوق کا دفاع نہیں کر سکتی، اقوام متحدہ اگر بوڑھوں کے حقوق اور قراردادوںکا دفاع نہیں کرسکتی تو اسے ختم کر دیا جائے۔ آخر میں پھر یہی سوال ہے کہ کیا عافیہ اور عافیہ کی ضعیف والدہ کے ساتھ ان کی ہمدردی صرف قوم سے ووٹ لینے اور وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کے لیے تھی؟ گزشتہ دنوں ڈاکٹر عافیہ کی بیمار ماں عصمت صدیقی کی عیادت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر جانا ہوا۔ بستر علالت پر بیماری کی وجہ سے ایک کمزور اوردکھی ماں کے حوصلہ کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہ ملک واقعی اللہ کی ایک نعمت ہے جس کی قدر حکمران اور بااختیار طبقہ بالکل ہی نہیں کررہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی بلند ہمت والدہ نے عیادت کے موقع پرکشمیر کی موجودہ صورتحال پر حکمرانوں کے نام دو اشعار کی صورت میں جو پیغام دیا وہ پیش خدمت ہے۔
جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے
دشمن بڑھائے ہاتھ تو تم بھی بڑھاؤ ہاتھ
ہاں یہ نہ ہو کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑے