شام میں آپریشن: ایران نے ترکی کو خبر دار کردیا

175

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ ایران شام میں ترک ملٹری آپریشن کی مخالفت کرتاہے،ترکی شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کااحترام کرے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ  نے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ضرورت ،استحکام اور  سلامتی کے قیام پر بھی زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کیلئے سب سے بہترین راستہ آدرنہ معاہدہ ہے۔

واضح رہے  ترکی نے 1998 میں شام کو دھمکی دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر شام نے اپنی سرزمین سے ترکی کے کرد باغی رہنما عبداللہ اوجلان کو بے دخل اور ترک کرد رہنمائوں کی مدد کرنا بند نہیں کی تو ترکی فوجی کارروائی کرے گا۔

دوسری جانب ترکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں امریکی حمایت یافتہ کردباغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔غیرملکی خبرایجنسیوں کے مطابق ترکی نے کردباغیوں کے خلاف آپریشن کے لیے اپنا بھاری ساز و سامان شام کے سرحدی علاقے میں منتقل کردیا ہے۔

امریکا کی ترکی کو دھمکی:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد اگر ترکی نے حدود کو پامال کیا تو امریکا ترکی کی معیشت پر حملہ کرے گا۔

امریکی صدر نے اپنے نیٹو کے سب سے بڑے اتحادی ترکی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے دیں۔صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ:“جیسا کہ میں پہلے بھی دوٹوک الفاظ میں کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر واضح طور پر دہرا رہا ہوں کہ اگر ترکی نے کچھ ایسا کیا جو کہ میرے خیالات اور تصورات سے مطابقت نہیں رکھتا تو میں ایسےحدود سے تجاوز سمجھوں گا اور میں ترکی کی معیشت کو تباہ و برباد کر دوں گا جیسا کہ میں پہلے بھی کر چکا ہوں”۔