امریکا نے 28 چینی کمپنیوں پر پابندی لگادی

62

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے چین میں مسلمان ایغور اقلیت کے حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر چین کی 28 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز چین کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد یہ کمپنیاں وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر امریکی کمپنیوں سے مصنوعات کی خرید و فروخت نہیں کرسکیں گی۔ سیکرٹری خزانہ ولبر روس نے کہا ہے کہ امریکا چین میں اقلیتوں پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کو نہ تو برداشت کر سکتا ہے اور نہ اسے برداشت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کسی بھی ملک کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا نہیں کرے گا، جو بے بس اقلیتوں کے استیصال کے لیے استعمال ہو سکے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے جن چینی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے ان میں نگرانی کے آلات بنانے والی کمپنی ہک وژن، مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں میگوی ٹیکنالوجی اور سینس ٹائمز شامل ہیں۔ امریکا نے چین کی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے، جب رواں ہفتے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بحالی پر مذاکرات ہونے جارہے ہیں۔ چین کی کمپنیوں پر پابندیوں سے متعلق حالیہ اعلان کے بعد چین اور امریکا کے درمیان تجارتی پالیسی پر ہونے والے مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پیر کے روز وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ امریکا اور چین کے درمیان مذاکرات کا آغاز جمعرات سے شروع ہوگا، جس کے دوران چین کے تجارتی سفیر لیو ہی امریکی نمایندہ برائے تجارت رابرٹ لائٹ ہائزر اور ٹریژری سیکرٹری اسٹیون منوچن سے ملاقات کریں گے۔ یاد رہے کہ دنیا کی ان 2 بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز اس وقت شروع ہوا تھا، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا دیا تھا۔ چین پر الزام ہے کہ اس نے اپنے صوبے سنکیانگ میں 10 لاکھ ایغور مسلمانوں کو مختلف کیمپوں میں رکھا ہوا ہے، جب کہ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ چین نے نازی جرمنی کی یاد تازہ کردی ہے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا تھا۔ اس تقریب میں امریکا کے سفیر جان سلیوان نے الزام عائد کیا تھا کہ چین کی حکومت مسلمانوں کو نماز اور قرآن پڑھنے سے روک رہی ہے، جب کہ وہاں بڑے پیمانے پر مساجد کو شہید کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمان اقلیتوں کو مذہبی آزادی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔