الصدر شہر میں بھی 15 عراقی ہلاک تعداد 112 ہوگئی

79
بغداد: اہم سرکاری عمارتوں کی جانب جانے والی سڑکوں کو بکتربند گاڑیاں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے‘ نوجوان فوج کی گولیوں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں
بغداد: اہم سرکاری عمارتوں کی جانب جانے والی سڑکوں کو بکتربند گاڑیاں کھڑی کرکے بند کردیا گیا ہے‘ نوجوان فوج کی گولیوں سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق کے شہر الصدر میں بھی احتجاج کے دوران 15 شہری مارے گئے۔ مقامی طبی اور پولیس ذرائع نے پیر کے روز بتایا کہ گزشتہ شب بغداد کے مشرق میں واقع علاقے الصدر سٹی میں ہونے والی جھڑپوں میں 15 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ملکیعسکری قیادت نے پیر کے روز اس بات کا اقرار بھی کیا کہ الصدر سٹی میں احتجاجی مظاہرین کے ساتھ تصادم میں طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کیا گیا۔ عراقی سیکورٹی کے میڈیا سیل نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے ہدایت جاری کی ہے کہ الصدر سٹی میں موجود تمام فوجیوں کو واپس بلا کر ان کی جگہ وفاقی پولیس کے اہل کار تعینات کیے جائیں۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ جھڑپوں میں طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والے عناصر کے احتساب کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ الصدر سٹی میں اتوار کی شب درجنوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کے بعد دارالحکومت بغداد میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ عراقی سیکورٹی قیادت کے مطابق اقدامات کو سخت کرنے کے نتیجے میں مظاہروں کی شدت کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ مظاہرین اور احتجاج کنندگان کی ہلاکتوں کے پیچھے خفیہ ہاتھ ہیں۔ عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کے ساتھ پُرامن طریقے سے نمٹنے اور ان کی جانوں کی حفاظت کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ میڈیا چینلوں کے دفاتر پر حملہ کرنے والوں کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ حکومت نے العربیہ اور الحدث سمیت کئی چینلوں کے دفاتر پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں 8 سیکورٹی اہل کار سمیت 112 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ زخمیوں کی تعداد 6 ہزار سے زیادہ ہے۔