فضل الرحمٰن کی طرح انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا جارہا رہے، بلاول

51
اسلام آباد: بلاول زرداری کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہورہا ہے
اسلام آباد: بلاول زرداری کی زیرصدارت قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہورہا ہے

 

راولپنڈی (صباح نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ہم اپنے اعلان پر قائم ہیں، مخالفین کو جیلوں میں رکھا گیا تو مولانا کی طرح سخت پوزیشن لینے پر مجبور ہوں گے،سال کے آخر تک عمران خان کو گھر جانا ہوگا، مشرف اورعمران حکومت میں کوئی فرق نہیں، دونوں سلیکٹڈ تھے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دھرنے کی سیاست سے حکومت کو گھر بھیجنے سے سسٹم کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اگر جمہوری اور انسانی
حقوق پر حملے کریں گے تو پھر ہم بھی دھرنے کے لیے مجبور ہو جائیں گے،تحریک انصاف پارلیمان کو عزت دے رہی ہے اور نہ ہی جمہوری نظام کو ۔بلاول کا کہنا تھا کہ غداری کا الزام اقتدار بچانے کے لیے لگا دیا جاتا ہے، جس جماعت کو فنڈنگ بھارت سے ہو، وہ کس منہ سے دوسروں کو ’را ‘کا ایجنٹ کا الزام لگاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری بیمار ضرور مگر ان کا حوصلہ بلند ہے، وہ پہلے بھاگے نہ اب کہیں بھاگیں گے، کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے،عدالتوں کے اندر اپنا کیس لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ پر مشاورت کے لیے پیپلز پارٹی کا اجلاس بلایا ہے، ہم جمہوریت کا پرچم اٹھا کرآگے بڑھ رہے ہیں۔ بھارتی پائلٹ کو بھی طبی سہولیات دی گئیں لیکن سابق صدر کو آج تک طبی سہولیات نہیں دی جا رہی۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر کہتے ہیں تو آصف زرداری کو طبی سہولت دی جائے، جب کہ جیل اور نیب کے ڈاکٹرز جو کہہ رہے ہیں حکومت اس پر بھی عمل نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ لوگ الیکشن سے ڈرتے ہیں، میں کہتا ہوں اگر دھاندلی نہیں کی تو دوبارہ الیکشن لڑ کر واپس آجائیں، مولانا فضل الرالرحمن کے احتجاج اور دھرنے کی حمایت کرتے ہیں، عمران خان نے کہا تھا دھرنے کے لیے کنٹینر دوں گا اورکھانا بھی ، اب دھرنے پر کیوں اعتراض ہے،ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سے متعلق عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں وقتی ریلیف ملا ہے، بیگ کھلیں تو کوئی بھی سلیکٹڈ نہیں رہے گا۔