جموںوکشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے دستور ہند کے خلاف ہیں، جماعت اسلامی ہند

131

لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے جموں و کشمیر سے متعلق این ڈی اے حکومت کے حالیہ اقدامات کو پارلیمانی جمہوریت کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف قرار دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ریاست میں طرح طرح کی بندش لگا کر اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرکے یک طرفہ فیصلے کیے گئے ۔فیصلوں کا یہ طریقہ دستور ہند کی جمہوری روایات کے خلاف اور وفاق کو سخت نقصان پہنچانے والا ہے ۔ دفعہ 370 کے ریاست کی خصوصی حیثیت کو وہاں کے عوام اور ان کے نمائندوں سے مشاورت کے بغیر یک طرفہ طور پر محض صدارتی حکم نامے کے ذریعے یک لخت ختم کر دیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جموں و کشمیر کو 2حصوں میں تقسیم کر کے ریاست کا درجہ ختم کردیا ہے ۔ ان انتہائی حساس اور دور رس اہمیت کے حامل فیصلوں پر ریاست کے عوام سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ اس فیصلے کے لیے ریاست کے عوام کے بنیادی حقوق مجروح اور سیاسی قائدین کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ تعلیمی ادارے بند اور ذرائع مواصلات مسدود کر دیے گئے ہیں ۔ اس طرح جبر کے ماحول میں یک طرفہ فیصلوں کو مسلط کر نے کی کوشش پورے ملک کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت یک طرفہ فیصلوں اور اقدامات کو واپس لے ۔جموں و کشمیر میں انتخابات کرائے جائیں اور گرفتار قائدین کو رہا کیا جائے۔ عوام کی نقل و حرکت اور مواصلات پر عاید پابندیاں ہٹا کر خوف و دہشت کا ماحول ختم کیا جائے ۔امیر جماعت ہند نے جماعت کے اس دیرینہ موقف کو دہرایا کہ جموں و کشمیر کے معاملات وہاں کے عوام سے مشاورت کے ساتھ طے ہونے چاہئیں۔