پاکستانی حکومت کو انڈیا کے اقدامات سے مسئلہ ہے،مودی

101

انڈیا کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے پاکستانی حکومت کو نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی کشمیر میں انڈیا کے اقدامات سے مسئلہ ہے جن سے اپنا ملک نہیں سنبھلتا۔ ان لوگوں نے انڈیا کے خلاف نفرت کو ہی اپنی سیاست کا محور بنا دیا ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو امن نہیں چاہتے، دہشت گردی کے حامی ہیں اور دہشت گردوں کو پالتے پوستے ہیں۔ 

انڈین وزیراعظم نے یہ بات اتوار کو امریکہ میں مقیم انڈینز کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کے دوران کہی۔ اس جلسے سےامریکی صدر ٹرمپ نے  بھی خطاب کیا۔   

مودی نے کہا کہ ان کی پہچان صرف آپ نہیں پوری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکہ میں نائن الیون ہو یا ممبئی میں 26 نومبر کے حملے ہوں، ان کی سازش کرنے والے کہاں پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی  اور اس کی ترویج کرنے والوں کے خلاف مل کر لڑائی لڑی جائےاور اس لڑائی میں امریکی صدر ٹرمپ پوری مضبوطی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔

نریندر مودی کے خطاب سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ریلی سے خطاب کیا اور کہا کہ مودی انڈیا اور اس کے عوام کے لیے واقعی ایک غیر معمولی کام کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے خطے میں کشیدگی کا موازنہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر سکیورٹی سے کیا اور کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی قوم کو محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم ان تمام انڈین اور امریکی فوجیوں کی قدر کرتے ہیں جو عوام کی حفاظت میں مصروف کار ہیں۔ ہم انتہا پسند اسلامی دہشت گردی سے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔