منشیات کیس :رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

43

لاہور(آن لائن) لاہور کی انسداد منشیات عدالت نے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما و سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہفتہ کو رانا ثنا اللہ کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ڈیوٹی جج خالد بشیر نے کیس پرسماعت کی۔ جہاں جج خالد بشیر نے بطور ڈیوٹی جج کیس پر سماعت کی اور ریمارکس دیے کہ میں بطور ڈیوٹی جج بیل کی درخواست سنوں گا۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دروان ریمارکس دیے کہ کئی بار اے این ایف نے پراسکیوٹر تبدیل کیا ہے، اب اس کیس میں پراسکیوٹر کون پیش ہوگا ؟اس پر اے این ایف وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب اس کیس میں محمد صلاح الدین بطور اے این ایف پراسکیوٹر پیش ہوں گے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ تحریری نوٹیفکیشن ہوا ہے یا زبانی باتیں ہیں، ڈیوٹی جج نے ریمارکس دیے کہ آپ پراسکیوٹر کا تحریری حکم نامہ لے کر آئیں۔کیس میں رانا ثنا اللہ کی جانب سے بطور وکیل اعظم نذیر تارڈ اور فرہاد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل اعظم نذیر تارڈ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج جو پیش کی گئی اس میں صرف گاڑیوں کا ٹول پلازہ سے لاہور داخل ہونا تھا۔ کیس میں رانا ثناء￿ اللہ نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ مجھے سڑک سے پکڑا گیا اور عدالت میں آ کر پتا چلا کہ مجھ سے ہیروئن برآمد ہوئی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے رانا ثنا اللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ 28 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میرے خلاف مقدمہ جھوٹ اور سیاسی انتقام پر مبنی ہے اور کوئی بھی ایماندار جج اس جھوٹے مقدمہ کو سننا نہیں چاہتا۔
رانا ثنا اللہ کیس