نیوزی لینڈ میں ہتھیاروں سے متعلق قوانین مزید سخت

65

ویلنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) نیوزی لینڈ میں ایک نئے قانون کو متعارف کرا دیا گیا ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آتشیں ہتھیار کا قبضہ صرف قانون کا احترام کرنے والوں تک محدود رہے۔ یہ پیش رفت کرائسٹ چرچ شہر میں 2 مساجد پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے 6 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس میں 15 مارچ کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 51 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نسل پرست نظریے کے حامی شخص کے حملے کے بعد نیوزی لینڈ میں ہتھیاروں سے متعلق قوانین میں واضح سختی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومت نے حملہ آور کی جانب سے استعمال کیے جانے والے آتشیں نوعیت کے ہتھیاروں کو ممنوع قرار دیا، تاہم اس کے بعد اس اقدام کو بھی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ کیوی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے جمعہ کے روز کرائسٹ چرچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہتھیار قبضے میں رکھنا ایک ضرورت ہے، یہ کوئی حق نہیں، اس کا مطلب ہوا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی کہ صرف ان پُر امن شہریوں کو آتشیں ہتھیار رکھنے اور استعمال کرنے کا لائسنس دیا جائے جو قانون کا احترام کرتے ہیں۔ نئے قانون کے مطابق نیوزی لینڈ میں قانونی صورت میں ہتھیاروں کے مالکان کا قومی ریکارڈ تشکیل دیا جائے گا اور قانون کے تحت ان افراد کو جیل کی سزا کا سامنا ہو گا جو لائسنس نہ رکھنے والوں کو ہتھیار پیش کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں کی درآمد اور فروخت کی شرائط کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق قومی ریکارڈ کی تشکیل 5 برس کے دوران مکمل کی جائے گی، جس میں ملک میں موجود 12 لاکھ ہتھیاروں کے حوالے سے معلومات شامل ہوں گی۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی کل آبادی 50 لاکھ ہے۔