اسٹیٹ بینک کی مانٹری پالیسی کے مضر اثرات

391

معیشت کو سدھارنے، کاروبار معیشت کو تیز کرنے، شرح نمو میں اضافہ کرنے، مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی لانے اور غربت میں کمی کرنے کے لیے حکومت کے ہاتھ میں دو ذرائع ہوتے ہیں۔ ایک کا نام مالیاتی پالیسی (Fiscal Palicy) جب کہ دوسری کو زری پالیسی (Monetary Palicy) کہا جاتا ہے۔ مالیاتی پالیسی بالعموم وزارت خزانہ اور اس سے متعلقہ محکموں اور ڈویژنوں کے ذریعے تشکیل پاتی ہے اور اس کا تعلق آمدنی اور اخراجات سے ہوتا ہے۔ زرعی پالیسی دنیا بھر میں ملکوں کے سینٹرل بینک وضع کرتے ہیں جس کے ذریعے شرح سود اور زر کی گردش (Mony Supply) میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ جب ملک میں کساد بازاری ہو، معاشی سرگرمیاں مدھم پڑ رہی ہوں، صنعتی و زرعی پیداوار کم ہورہی ہو تو شرح سود میں کمی اور زر کی گردش بڑھائی جاتی ہے اور اس پر تمام معیشت داں متفق ہیں۔ دوسری طرف اگر معاشی سرگرمیاں زوروں پر ہوں، روزگار کے وافر مواقعے موجود ہوں، لوگوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہورہا ہو، مجموعی طلب (Aggregate Demand) بڑھ رہی ہو تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہنگائی بڑھنے لگتی ہے، اسے کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کرتا ہے اور زر کی گردش کم کی جاتی ہے تا کہ مجموعی طلب کم ہو اور مہنگائی کنٹرول میں آئے۔
یہ وہ معاشی نظریات ہیں جو کسی بھی علم معاشیات کی کتاب میں دیکھے جاسکتے ہیں اور دنیا کے بالعموم تمام ماہرین معیشت میں اِن پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے مرکزی بینک یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان گزشتہ سال بھر میں جس زری پالیسی کا اعلان کرتا رہا ہے اس میں شرح سود تقریباً 6 فی صد سے 13.25 فی صد تک پہنچ گیا ہے۔ مرکزی بینک ہر دو ماہ بعد اپنی زری پالیسی کا اعلان کرتا ہے اور اس میں ملک کے چیدہ چیدہ معاشی اشاریے (Indicators) کا بھی ذکر کرتا ہے۔ مالی سال 2018-19 میں اسٹیٹ بینک نے اپنی زری پالیسی کے اعلان میں اس بات کا بھی ہر مرتبہ ذکر کیا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ شرح سود میں تو اضافہ ہوتا گیا مگر مہنگائی کم نہ ہوسکی
اور جولائی اگست میں یہ مہنگائی پرانے سسٹم کے مطابق 11.6 فی صد اور نئے سسٹم کے مطابق 10.5 فی صد ہے۔ جب کہ شرح سود میں اضافے کی ملکی معیشت کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ مثلاً قرضوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں شرح سود میں اضافے کے باعث زیادہ رقم حکومت کو ادا کرنا پڑی اس سے مالی خسارہ جی ڈی پی کے 8.6 فی صد تک پہنچ گیا۔ دوسرے یہ کہ بھاری شرح سود کے باعث نجی شعبے نے سرمایہ کاری اور ورکنگ کیپٹل کے لیے قرضے بہت کم لیے، اس سے کاروباری سرگرمیاں سست ہوگئیں جو پہلے ہی سست روی کا شکار تھیں۔ عام طور پر ان حالات میں شرح سود میں کمی کی جاتی ہے تا کہ کاروبار کو تیز کیا جاسکے مگر یہاں پر اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی نے شرح سود میں اضافہ کرکے ایک نامناسب قدم اُٹھایا جس سے معیشت جو سست روی کا شکار تھی وہ بالکل ہی بیٹھ گئی اور اس میں اسٹیٹ بینک ہی نہیں بلکہ حکومت کے دوسرے محکمے اور وزارتیں بھی شریک ہیں جن میں ایک تو حکومت کے مختلف محکموں اور وزارتوں میں عدم روابط کا معاملہ ہے اور دوسرے پالیسیوں کا غیر تسلسل ہے۔ مثلاً اسپیشل اکنامک زون کا بہت
چرچا ہے، صوبہ سندھ میں تین ایسے زونز بنائے گئے ہیں اور ان میں مختلف ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں سے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے شروع میں تمام سرمایہ کاروں کے سامنے یہ اعلان کیا گیا یہاں ہونے والی تمام صنعتی سرگرمیاں ٹیکس فری ہوں گی۔ اب FBR اُن سے 1.5 فی صد کے حساب سے ریونیو پر ٹیکس مانگ رہا ہے جس پر تمام سرمایہ کار احتجاج کررہے ہیں۔ ابھی کراچی میں چوتھی سالانہ انوسمنٹ کانفرنس ہوئی ہے اور اس میں تمام سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سازگار ماحول اور پالیسیوں کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن جب ایسی خبریں باہر نکلیں گی تو کون پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا۔
اسی طرح ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی صاحب ٹیکس نیٹ میں اضافے کی خبر وزیراعظم کو سنا رہے ہیں کہ ٹیکس گوشورے جمع کرنے والوں کی تعداد میں 69 فی صد اضافہ ہوا ہے اور 7 لاکھ 83 ہزار نئے ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ یہ پاکستانی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے مگر اہمیت اس بات کی ہے کہ مجموعی طور پر ٹیکس کتنا جمع ہوتا ہے اور مالی خسارہ جس کا اوپر ذکر ہوا وہ جب ہی کم ہوگا کہ ٹیکس وصولی اپنے ہدف تک پہنچ جائے، اسی طرح عوام کی فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کے لیے رقم فراہم ہوسکے گی اور وہ چین کا سانس لے سکیں گے۔