وزیراعظم سری نگر جانے کا اعلان کریں،جماعت اسلامی ساتھ ہوگی،سراج الحق

101
چکوال : امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اجتماع عام سے خطاب کررہے ہیں
چکوال : امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اجتماع عام سے خطاب کررہے ہیں

چکوال(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سری نگر جانے کا اعلان کریں جماعت اسلامی سب سے آگے ہوگی۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو کشمیر کے حوالے سے جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔کشمیر میں ایک قیامت برپا ہے ۔ کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہے ۔یواین او یا سلامتی کونسل کشمیر یوں کو آزادی نہیں دے گی۔40 دن سے لوگ موت و حیات کی کشمکش میں ہیں ۔وزیر اعظم ہمیں مودی سے نہ ڈرائیں ،ہمارا ہر نوجوان صلاح الدین ایوبی ،محمود غزنوی اور محمد بن قاسم ہے ۔مودی اور آرایس ایس کے غنڈے خطرناک ہیں تو ہمارے مجاہد ایسا گھیرا ڈالیں گے کہ انہیں بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ جموںو کشمیر اور لداخ بھارتی فوجیوں کے قبرستان بنیں گے ۔کشمیر کے نہتے عوام 15لاکھ بھارتی فوج کا مقابلہ کررہے ہیں۔ 15ستمبر کوکوئٹہ ، 20کو سرگودھا اور 6 اکتوبر کو لاہور میں آزادی کشمیر مارچ کریں گے ۔ 6 اکتوبر تک حکومت نے کوئی فیصلہ نہ کیا تو پھر پاکستان اور کشمیر کے عوام فیصلہ کریں گے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہا رانہوں نے چکوال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جلسے سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی خطاب کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم اب حکمرانوں سے تقریریں نہیں عملی اقدام چاہتی ہے ۔ بدترین کرفیو میں کشمیر ی اپنے مُردوں کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں اسپتال لاشوں اور زخمیوں سے بھر گئے ہیں ۔ہر گھر کے سامنے فوجی کھڑا ہے۔ معصوم بچے اور بیمار دم توڑ رہے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے ادارے اور پوری دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کمزور اور بے بس لوگوں کا نہیں جرأت کے ساتھ میدان میں کود جانے والوں کا ساتھ دیتی ہے ۔وزیر اعظم نے مظفر آباد جانے اور جلسے سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی مگر میں نے انہیں کہا کہ مظفرآباد ،لاہور اور اسلام آباد میں جلسوں کا مودی پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔مودی اس دن بھاگے گا جب آپ سری نگر کا رخ کریں گے ۔آپ نے جس دن سری نگر جانے کا اعلان کیا میں آپ سے 4قدم آگے ہوں گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت سابق حکومتوں کا ہی تسلسل ہے اور پہلے سال میں ہی ناکامی کی تصویر بن گئی ہے ۔حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہیں کرسکی ۔ایک کروڑ نوکریوں ، 50 لاکھ گھروں اور معیشت کی بہتری کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔معیشت تباہ ہے۔ورلڈ بینک اورآئی ایم ایف کے لوگ مالک مکان کی طرح ہمارے معاشی اداروں میں آکر بیٹھ گئے ہیںاور ہمارے حکمران ہاتھ باندھ کر سامنے کھڑے حاضر جناب حاضر جناب کی صدائیں بلند کررہے ہیں۔ بدترین مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کررکھا ہے ۔کارخانے اور صنعتیں بند ہیں اور سرمایہ کار ملک سے بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ رہے ہیں۔ کرپشن کو ختم کرنے کے دعویداروں کی حکومت میں کرپشن کی جڑیں مزید گہری ہوگئی ہیں۔سابق حکومتوں میں ناجائز کام کے لیے اور موجودہ حکومت میں جائز کام کے لیے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔کسان اور مزدور خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود بھوکے سوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پولیس کو ٹھیک کرنے کے بڑے بلند و بانگ دعوے کیے تھے مگر ہر ضلعے کے تھانے میں روزانہ کوئی نہ کوئی صلاح الدین مارا جاتا ہے ۔تھانوں میں انسانیت کی تذلیل ہر روز کا معمول ہے ۔تبدیلی اور احتساب کے سارے نعرے نقش بر آب ثابت ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حقیقی تبدیلی اور خوشحالی صرف اللہ کے نظام سے آسکتی ہے ۔ جماعت اسلامی ملک میں نظام مصطفی ؐ کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے ۔اصل متبادل ہم ہیں۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں ۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر العظیم نے کہا کہ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھارت کے ذہنی غلام ہیں ۔وزیر اعظم کہتے تھے کہ مودی کامیاب ہوگیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گااور مودی نے آتے ہی کشمیر پر ایسا وار کیا کہ وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے اپنی ریاست قراردے دیا۔اب ہمارے وزیراعظم جلسے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کام احتجاجی جلسے جلوس کرنا نہیں ہوتا ۔عوام اپنے حکمرانوں سے اسلامی غیرت وحمیت اور جرأت کا مظاہر ہ چاہتے ہیں۔وزیر اعظم کو ایل اوسی کی طرف مارچ کرنا اور بھارت کو للکارنا چاہیے تھا۔
سراج الحق