سندھ کے تعلیمی مسائل کے حل کیلئے سب جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، مقررین

55

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ کی تمام سیاسی اور مذ ہبی جماعتوں کے منتخب نمائندوں اور رہنماؤں نے کہا ہے کہ سندھ کے اندر تمام تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سب جماعتوں کو ا مل کرکام کرنا ہوگا سندھ میں تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے بغیر کسی تفریق کے کام کرنا ہوگا،

ا ن خیالات کا اظہار کراچی کی مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز (آئی سیپس) کے زیراہتمام سندھ میں معیاری تعلیم تک یکساں رسائی کے عنوان سے منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں جی ڈی اے کی ایم پی اے نصرت سحر عباسی، نسیم راجپر، ایم کیو ایم کے ایم پی اے سید عباس جعفری، ندیم صدیقی، پی پی کے ایم پی اے طارق علی تالپور،

جماعت اسلامی کے ایم پی اے سید عبدالرشید اور مسلم لیگ ن، جمعیت علماء اسلام، سندھ یونائٹیڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اس وقت سندھ میں تعلیمی اداروں کی حالت انتہائی غیر معیاری ہے، اسکولوں میں بنیادی سہولیات کاا فقدان ہے اسکولوں کی عمارتیں تک کمزور ہوچکی ہیں،

دوسری طرف اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے، ایک کمرے میں ایک ہی استاد پانچ جماعتوں کو درس دے رہا ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے اس لیے ہم سب کو مل کر اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے،

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ اس کے لیے سب سے پہلے ہم پارلیمینٹرین اور سیاسی جماعتوں کو یہ عہد کرناہوگا کہ تعلیمی معاملات پر بغیر کسی تفر یق کے کام کرینگے آخر میں ایک سوال کے جواب میں رہنماؤں نے کہا کے آئی سیپس کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار سے ہم مکمل اتفاق کرتے ہیں اور اس معاملے کو سندھ اسمبلی کے فلو پر اٹھا ئینگے اور آرٹیکل A25میں قانون سازی کروا کر اس کو نافذ کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔