اخوان المسلمون کے مرشدِ عام سمیت مرکزی رہنماؤں کو عمر قید

71

مصر کی عدالت نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے سربراہ(مرشدِ عام) محمد بدیع ، سابق صدر محمد مرسی کے سیکورٹی مشیر سمیت متعدد مرکزی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق  2013 میں فوج کی جانب سے پہلی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد معزول صدر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کے خلاف “حماس” کے لیے جاسوسی کرنے سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔

رواں سال انہی مقدمات کی پیروی کے دوران محمد مرسی کمرہ عدالت میں شہید ہوگئے تھےجب کہ آج طویل عرصے تک چلنے والے ٹرائل کے بعد عدالت  نے اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اخوان کے سب سے بڑے رہنما(مرشد عام) محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت الشاطر کو 25 سال عمر قید کی سزا دی گئی ہے جب کہ دیگر 5 اراکین کو 7 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی گئی۔

اخوان المسلمون کے مرشد عام سمیت 88 کارکنوں کو عمر قید

اردن میں اخوان المسلمون کے رہنما کا خطبہ جمعہ کے دوران انتقال

مصر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کا عدالتی قتل کسی صورت قبول نہیںِ،ترک صدر