شمشیر شاہد صاحب ……(امین عام جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان)

77

امت مسلمہ آج جس بھٹکی اورسسکتی ہوئی تاریکیوں میں گری ہوئی ہے اس کی بہت سارے اور وجوہات بھی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر مسلم ممالک پرقابض حکمران اس انتشار اور افتراق کے ذمہ دار ہیں۔اسلام اور امت کے مفاد کے مقابلے میں قومی اور ریاستی وذاتی مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے۔ہمارے خیال میں برصغیرپاک وہند میں جہاں دینی مدارس نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام سرانجام دیا وہاں مسلمانوں کو فرقہ واریت اور مذہبی اور مسلکی تعصب کو بھی ہوا دی گئی۔دوسری جانب ان گنت باطل قوتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور روایت پسند وں کو آپس میں ایسے ٹکرایا کہ یہ آٹھ دہایاں گزرتے ہوئے بھی نہ سنبھل سکے۔دینی مدارس کے طلبہ جو ہرطرح کی علمی استعداد سے بہرہ ورتھے انہیں ایک خول کے اندرڈالاگیا اور پیش آمدہ فتنوں وسازوں سے لاعلم رکھاگیا۔جس کا نتیجہ یہ نکل کہ اب روایت پسند کسی بھی جدیدیت سے بنادلیل کے متاثر ہونے لگا۔
مدارس عربیہ میں اتحادواتفاق کی جدوجہدکیساتھ علمی اور فکری ونظریاتی محاذپر بھی کام بروقت کرناچاہئے تھا جس میں دیر کردی گئی ہے۔ہماراتعلق ایک فکری اور نظریاتی تحریک سے ہے۔اس تحریک کا آغاز آج سے پورے چھیالیس سال پہلے لاہور میں کیا گیا تھا ۔آج 10محرم الحرام کو اس کا سینتالیسواں یوم تاسیس ہے۔اس موقع پر نفس یوم تاسیس منانے سے نہ تو کوئی تحریکی فائدہ ملے گا اور نہ ہی فکری ونظریاتی فائدہ ملے گا۔اس لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ یکم محرم سے 10محرم تک عشرہ تجدید عہد منایا جائیگا۔ان دس دنوں کے اندر تحریک کی خدمات،جدوجہد ،کارنامے اور آئیندہ کے لائحہ عمل پر غور وخوص کیا جائے گا۔محرم کا مہینہ پہلے ہی سے امت کے لیے محترم مہینہ ہے۔اسی مہینہ میں شھادت حسین ؓ کا واقعہ فاجعہ رونماہوا۔اسی مہینے کو 10تاریخ کو روزہ رکھنے کی فضیلت احادیث سے ثابت ہیں۔جمعیت طلبہ عربیہ کی تاسیس بھی خوش قسمتی سے اسی دن یعنی د س محرم الحرام کوہوئی تھی۔اور اسی نسبت سے اس کے بہت بلندمقاصد طے کئے گئے تھے۔ساتھیو!کسی بھی تنظیم وتحریک کی مظبوطی اور کامیابی اس کی فکری اورنظریاتی بنیاد ہوتی ہے۔بہترین کارکن وہ ہوتے ہیں جو مطالعہ کے زریعے سے اپنے فکری بنیادوں کو مستحکم اور مضبوط بناتے ہیں۔
آخری بات!ہمارے کندھوں پر اب پہلے کی نسبت اورزیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مختلف ناموں سے کام کرنے والی باطل قوتوں کا مقابلہ تب کیا جاسکے گا جب ہم خود علم کے اسلحے سے لیس ہوں۔آپ سب کا اولین کام تحقیقی علم ہے۔اپنے درسی کتب کے ساتھ جدید تقاضوں اور سازشوں کا بھی مطالعہ اپنے اوپر لازم قرار دیں۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو۔امیں