مصطفی کمال و دیگر کیخلاف ریفرنس قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

19

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کی احتساب عدالت کے روبرو ساحل سمندر کی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفی کمال، سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائمخانی، فضل الرحمان، ممتاز حیدر، نذیر زرداری عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت میں نیب کے تفتیشی افسر عبدالفتح کی عدم حاضر رہے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ مفرور ملزمان کی کیا رپورٹ ہے؟ پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ مفرور ملزمان کے گھر پر نوٹس ارسال کردیے محسوس ہوتا کہ کچھ ملزمان پاکستان سے باہر ہے۔ ایک ملزم کے وکیل نے موقف دیا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ ریفرنس قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔ عامر نقوی ایڈوکیٹ نے موقف اپنایا سب سے پہلے ہمیں ریفرنس کے قابل سماعت ہونے کے متعلق دلائل کی اجازت دی جائے۔ ریفرنس میں کئی جگہ پر تضاد ہے ہمیں ریفرنس کے متعلق آپ کو مطمئن کرنا لازم ہے۔ ہمیں وقت دیا جائے تاکہ ریفرنس کو مزید سمجھا جاسکے۔ سید مصطفیٰ کمال کے وکیل حسان صابر نے بھی عدالت سے مہلت طلب کرلی۔ عدالت نے سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ نیب کے مطابق مصطفی کمال اور دیگر کے خلاف ساحل سمندر پر ساڑھے 5 ہزار مربع گز زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔ سماعت کے بعد مصطفی کمال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ کیس کیس ہی نہیں ہے یہ زمین سرکار کی تھی ہی نہیں۔ زمین 1981 سے پرائیویٹ لینڈ ہے اور اب بھی پرائیویٹ آدمی کے پاس یہ زمین ہے۔ اس کیس میں کوئی وزن ہی نہیں۔ اس کیس میں ایسا الزام ہے جیسے میں نے قتل کیا اور قتل ہونے والا سامنے گھوم رہا ہو۔