اسرائیل نے یہودی کالونیوں کے لیے 100 ایکڑ زمین غصب کرلی

65

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں جالود اور قریوت گائوں اور رام اللہ میں ترمسیعا کے مقام پر آبادکاری کے لیے فلسطینیوں کی 100 ایکڑ اراضی غصب کرلی۔ مقامی سماجی کارکن غسان دغلس کے مطابق اسرائیلی فوج نے قریوت اور جالود کے رہایشیوں کو علاقے خالی کرنے کے نوٹس دیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ حکومت تمام بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے الحاق کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ دوسری جانب قلقیلیہ کے مشرق میں عزون قصبے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 8فلسطینی شہری زخمی ہو گئے۔ صہیونی فوج نے عزون قصبے کے مرکزی دروازے کو بند کر دیا اور قریبی کھیتوں میں جمع ہو گئے،جس کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ قابض فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں تخریب کاری کے الزام میں 14فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا۔ ادھر اسرائیل کی بجلی کمپنی نے فلسطینی اتھارٹی کے ذمے واجبات کے بڑھتے حجم کے باعث رواں ماہ ہونے والے کنیسٹ انتخابات کے بعد مغربی کنارے کے کچھ حصوں کی بجلی کاٹنے کی دھمکی دے دی۔ اسرائیل ٹیلی وژن 11 کے مطابق اسرائیلی ہائی کورٹ کے چند روز قبل کمپنی کو واجبات ادا نہ ہونے پر مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے علاقوں میں بجلی کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ صہیونی حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ذمے قرضوں کا حکم ایک ارب 70 کروڑ شیکل تک پہنچ چکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کی جانب سے رقوم کی عدم ادائی کے باعث مالی بحران کے بعد سے بجلی کے بلوں کی رقم اسرائیلی کمپنی کو منتقل کرنا بند کردیا ہے۔ ادھر ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی فوج کی جانب سے اگست 2019ء کے دوران فلسطینیوں کے خلاف گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران اسرائیلی فوج نے 162 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔