مقبوضہ کشمیر: مسلسل 29 واں روز ،کرفیو اور پابندیاں برقرار

162

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 29 ویں روز بھی کرفیو اور پابندیاں برقرار ، غذائی قلت کا بحران پیدا ہوگیا ، کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔

مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو کے باوجود کشمیریوں کی جانب سے مزاحمت میں کمی نہیں  آئی، سرینگر سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں کشمیری نوجوان سخت پابندیوں کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کررہے ہیں جبکہ  بھارتی حکومت نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کو لاگو کرکے ہزاروں کشمیریوں حراست میں لے لیا ہے ،متعدد جیلوں اور درجنوں اب تک قتل کیے جاچکے ہیں۔

  یاد رہے کہ بھارتی حکومت کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ایک اور  کالے قانون پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک اور کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 35 ہزار سے زائد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی چھان بین کی جا رہی ہے، وادی میں حریت رہنماؤں سمیت 10 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔