ٹرمپ کی اَنا امریکی اسٹاک مارکیٹ کو لے ڈوبی

87
نیویارک: امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھ کر عملے اور سرمایہ کاروں نے سر پکڑ لیا ہے
نیویارک: امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھ کر عملے اور سرمایہ کاروں نے سر پکڑ لیا ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کردیا، جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی صدر کے اس اعلان پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 3 فیصد تک اور ڈاؤ جونز میں 2.4 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جب کہ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 2.6 فیصد کی گرواٹ دیکھی گئی۔ اسی طرح نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 3 فیصد کی کمی ہوئی۔ ڈاؤ جونز صنعتی اوسط اشاریہ دوپہر کے بعد کے کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 700 پوائنٹ سے زیادہ گرگیا۔ ڈاؤ جونز کا اختتامِ ہفتہ پر بھاؤ جمعرات کے آخری بھاؤ کے مقابلے میں 623 پوائنٹ یا 2.4 فیصد کمی کے ساتھ 25 ہزار 628 رہا، جو اس معیاری اشاریے کی رواں سال چوتھی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ ٹیکنالوجی سے متعلقہ حصص کی بڑی تعداد کا حامل اشاریہ نیسڈیک 239 پوائنٹ کی گراوٹ کے بعد 7ہزار 751 رہا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو چین میں کاروبار بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا چین کے ساتھ تجارت میں گزشتہ کئی برسوں میں کھربوں ڈالر گنوا چکا ہے۔ ٹرمپ نے چین کی 550 ارب ڈالر کی تجارتی مصنوعات پر مزید 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے چین سالہا سال سے تجارت کی مد میں امریکا کا پیسہ چوری کر رہا ہے، اس سے تجارت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بد قسمی سے ماضی کی انتظامیہ نے چین کے ساتھ تجارت میں توازن نہیں رکھا جس کا نتیجہ امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ کی صورت میں ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا یکم اکتوبر سے 250 ارب ڈالر کی چینی درآمدات پر عائد ٹیکس 25 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دے گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیاں چین کا متبادل تلاش کریں۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین نے 75 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر دیا تھا، جس پر ٹرمپ نے چین میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کو کام بند کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سنگین ہوچکی ہے۔ امریکی صدر چین کی 300 ارب ڈالر کی مصنوعات پر کئی ٹیکس عائد کر چکے ہیں، جب کہ ردعمل میں چین بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس لگا چکا ہے۔ تنازع میں شدت کو ماہرین عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اس سے عالمی کساد بازاری جنم لے سکتی ہے۔ ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیندہ ہفتے بازار کے آغاز پر اس فیصلے کا کاروبار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے چین کے تجارتی ماڈل کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ امریکا کا یہ الزام رہا ہے کہ چین تخلیقی جملہ حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مقامی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔