مقبوضہ کشمیر میں 16 ویں روز بھی لاک ڈاؤن ،سڑکیں سنسان ،کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے ویران،خوف اور خدشات میں مزید اضافہ

32

سرینگر(خبرایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں 16 ویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری رہا۔ سڑکیں سنسان ،کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے ویران رہے۔بعض مقامات پر کرفیو میں نرمی کی گئی اس کے باوجود دکاندار دکانیں نہیں کھول رہے ،عوام میں خدشات اور خوف میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں ہر طرف فوج نظر آ رہی ہے، ہر گلی، نکڑ، محلے اور سڑکوں پر فوجی اہلکار کھڑے ہیں، پوری ریاست چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، فوج اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد پیٹرولنگ کر رہی ہے۔ بانڈی پورہ اور بارہمولا کہ چند علاقوں میں جن میں سوپور بھی شامل ہے سخت پابندیاں ہیں۔ شوپیاں، کولگام اور اننت ناگ میں کرفیو ختم ہوتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد مظاہرے شروع کر دیتی ہے۔موبائل، لینڈ لائن، انٹر نیٹ ،ٹرانسپورٹ ، ٹرینیں اوربسیں بھی بند ہیں۔ شہری اپنے پیاروں سے رابطے نہ ہونے پر پریشان ہیں جس کی وجہ سے وادی کا دنیا کے ساتھ رابطے منقطع ہو کر رہ گیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یٰسین ملک سمیت ہزاروں کی تعداد میں دیگر سیاسی رہنما بھی جیل میں بندہیں، ہند نواز محبوبہ مفتی، عمر عبد اللہ، فاروق عبد اللہ کو بھی جیل میں بند کیا گیا ہے۔قطری خبر رساں ادارے الجزیرہ کے نمائندے کچھ شہریوں کے پاس بیٹھے جہاں وہاں لوگوں کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت ڈرامے رچا رہی ہے،99 فیصد سڑکیں بند ہیں، ایک بار پھر کرفیو ختم ہوا تو لوگوں کی بڑی تعداد باہر نکلے اور مظاہرے کرے گی، مودی سرکار نے ہفتے میں ایک بار کرفیو نرم کر کے دنیا کو ڈھونگ رچانے کی کوشش کی تاہم بڑی تعداد میں مظاہرے کے بعد بوکھلاہٹ میں آ کر قابض انتظامیہ نے دوبارہ سخت کرفیو نافذ کر دیا ہے، ہم ہار ماننے والے ہیں، احتجاج جاری رکھیں گے، ہماری شناخت پر حملہ کیا گیا ہے۔شہریوں کے احتجاج پر بھارتی قابض فوج پیلٹ گنز اور اانسو گیس استعمال کر رہی ہے، 8 شہری زخمی ہو گئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے سرینگر کے مقامی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ مقامی صحافیوں شکوہ کر رہے ہیں کہ ہمارے کام میں روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔ پاسز دیے جا رہے ہیں جس کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مقبوضہ کشمیر