مقبوضہ کشمیر:کرفیو کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور خواتین کی بر حرمتی کے واقعات کا انکشاف

46

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ وادی کشمیرمیں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے 14روز کرفیو کے دوران مختلف علاقوںمیں گھروں پر چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین اور لڑکیوں کی بے حرمتیاں کیں اور بڑی تعداد میں نوجوانوںکو گرفتار کرلیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ماہرین معیشت اورسماجی کارکنوں کے ایک گروپ کی طرف سے نئی دہلی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کشمیرمیں تعینات قابض بھارتی فورسز کے اہلکاروںنے گھروںپر چھاپوں کے دوران کشمیری خواتین اور لڑکیوںکی بڑے پیمانے پربے حرمتیاں کر نے کے علاوہ گزشتہ ہفتے کے دوران ہزاروں کشمیری لڑکوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ رپورٹ وادی کشمیر اور دیگر علاقوں کے لوگوں سے حاصل کی گئی معلومات کی پر تیار کی گئی ہے‘ معلومات فراہم کرنے والے تمام افراد نے بھارتی حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائی کے ڈر سے کیمرے کے سامنے
آنے سے انکار کیا۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 15 اگست کو جو مقبوضہ علاقے میں مسلسل رائج کرفیو اور دیگر سخت پابندیوںکا 11واں روز تھاکشمیر میںبھارتی فورسز نے سیکڑوں لڑکوں کو اغوا اور خواتین کے بے حرمتیاں کیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ5 اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد سے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے وادی کشمیرمیں سیکڑوں گھروں پر چھاپے مارکر کے بڑی تعداد میں کشمیری نوجوانوں اور لڑکوںکو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار افراد میں سے زیادہ تر لوگوں کو کشمیر سے باہر کی جیلوں میں منتقل کیاگیا ہے کیونکہ کشمیر کی جیلوں میں مزید قیدیوں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں لوگوں نے کم از کم 47مقامات پر کرفیو اوردیگر پابندیاں توڑ کربھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی حکومت کی طرف سے دفعہ 370کے خاتمے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کیے‘ سری نگر کے علاقوںصورہ ، رعناواری، نوہٹہ ، لالبازار، گوجوارہ اور کاٹھی دروازہ اورضلع اسلام آباد کے علاقے ڈورو میں احتجاجی مظاہرین پر گولیاں اور پیلٹ فائر کیے اور آنسو گیس کے گولے داغے جس سے ایک لڑکی اور ایک بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ وادی میں گزشتہ 2 ہفتوں سے لینڈ لائن ، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں۔ بچوں کے لیے غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔بھارت سے 18ڈاکٹروں پر مشتمل ایک گروپ نے خبردارکیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کی وجہ سے حفظان صحت کے حقوق پامال ہورہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ایک مشترکہ خط میں بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ علاقے میں فوری طورپر کرفیو اٹھالے۔ مقبوضہ کشمیر کی پوری سیاسی قیادت بشمول سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق ، سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی اپنے سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کے ہمراہ مسلسل گھروں یا جیلوں میں نظربند ہیں۔ ادھر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی نکال کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں تمام مذاہب اور زندگی کے ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ریلی کا اہتمام فرینڈز آف کشمیر کنیڈا نے کیاتھا۔ علاوہ ازیںمقبوضہ کشمیر میں 2 ہفتے سے جاری کرفیو میں بعض علاقوںمیں نرمی کے باوجود خوف کی فضا برقرار ہے اور اسکولز کھلنے کے باوجود بچے غیر حاضر رہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اسکول نہیں جائیں گے جب تک موبائل فون سروسز بحال نہیں ہوجاتیں اور وہ بچوں سے باآسانی رابطہ نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں بھارتی فوجیوں نے بچوں کو گرفتار کیا ہے اور کئی بچے جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں نے سری نگر کے 2 درجن اسکولوں کا دورہ کیا، کچھ اسکولوں میں مختصر عملہ موجود تھا جبکہ کلاس رومز ویران تھے دیگر اسکولوں کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔خیال رہے کہ17 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے کچھ مقامات میں کرفیو میں نرمی کے بعد سے 24 گھنٹے سے 5 اگست کے بھارتی اقدام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ۔
کشمیر مظاہرے