مقبوضہ کشمیر ،ہزاروں کشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے ،شدید احتجاج ،3 شہید،درجنوں زخمی

31

سری نگر/نئی دہلی (خبر ایجنسیاں) بھارتی حکومت کے غیرقانونی اقدام کیخلاف سری نگر میں 10 ہزار کشمیریوں نے کرفیو توڑ کر احتجاجی مظاہرہ کیا جسے منتشر کرنے کے لیے بھارتی فورسز نے آنسوگیس اورپیلٹ گنوں سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے 3 کشمیری شہید اور 42سے زاید زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز اور کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال سے بڑی تعداد میں کشمیری زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز نے مسافر بس کو بھی نشانہ بنایا،پیلیٹ گن کے چھرے لگنے سے ڈرائیور قابو نہ رکھ سکا اور بس الٹ گئی۔واضح رہے وادی میں کرفیو ساتویں روز میں داخل ہو گیا۔ 24حریت رہنماؤں کو سری نگرسے آگرہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو ان کے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔جگہ جگہ بھارتی فورسز نے چوکیاں بنا رکھی ہیں۔کشمیریوں کو مجبوری کے تحت آمد و رفت کے دوران بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ، موبائل، لینڈ لائن، انٹرنیٹ اور مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں۔تعلیمی ادارے ، دفاتر اور بازار بند ہیں اور سڑکوں پر ہُو کا عالم ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں،خار دار تاریں بچھا کر گاڑیوں اور راہگیروں کی نقل و حرکت ناممکن بنا رکھی ہے۔ قابض انتظامیہ نے کارگل میںبھی دفعہ 144 نافذ کر دی، وہاں بھی ،مواصلات کے تمام ذرائع معطل ہیں جس کے باعث علاقے کابیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث اخبارات 4اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہو سکے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ وادی سے متعلق مودی حکومت کا اقدام بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق عمر عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ایم پی اکبر لون اور حسنین مسعودی کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔نیشنل کانفرنس نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسے 2 یونین میں تقسیم کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیری وکیل شاکر شبیر کی جانب سے بھی سپریم کورٹ میں مودی حکومت کے اقدام کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق صدارتی حکم نامے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے۔
مقبوضہ کشمیر احتجاج