کشمیری سڑکوں پر نکل آئے ،قابض فوج سے 6 نوجوان شہید ،100 زخمی سیکڑوں گرفتار

29

سری نگر /برسلز(خبرایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف کشمیری سڑکوں پر نکل آئے۔سخت کرفیو اور بڑی تعداد میں فوجیوںکی تعیناتی کے باوجود سری نگر، پلوامہ، بارہ مولا اور شوپیاں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اوربھارت کے خلاف شدید نعرے لگائے گئے۔قابض فوج نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 6 نوجوان شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق زیادہ تر مظاہرین پیلٹ گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے جب کہ آنسو گیس کی شیلنگ سے شہری بے حال ہوگئے۔ بدھ کو مسلسل تیسرے روزبھی مقبوضہ علاقے میں کرفیو اورکشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع رہا۔بھارتی فورسز نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 100سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا۔ بی بی سی نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشمیری صدمے کی صورتحال میں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وادی کشمیرمیں جلد ہی بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا ۔مقبوضہ کشمیر کے معروف صحافی مزمل جلیل نے جو سرینگر سے دہلی پہنچے ہیں ،محصور وادی کشمیرکے حالات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کی صورتحال 1846ء سے بھی بدتر ہے جب انگریزوں نے انسانوں، درختوں اورزمین سمیت پوری ریاست جموںوکشمیر محض 75لاکھ نانک شاہی(سکہ رائج الوقت) کے عوض مہاراجا گلاب سنگھ کو بیچ دی تھی۔ سرینگر فوجیوں اور خاردار تاروں کا شہر بن چکا ہے۔ کشمیر کونسل یورپ نے جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت پر حملے کے خلاف 3روز احتجاجی پروگرام کے تحت آج برسلز میں احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ کینیڈا کی تیسری بڑی سیاسی جماعت این ڈی پی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں موجودہ سنگین صورتحال پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹوریل بورڈ نے ’’بھارت کی کشمیر میں قسمت آزمائی، دنیا کا سب سے خطرناک علاقہ‘‘کے زیرعنوان اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی فیصلہ خطرناک اور غلط ہے جس سے قتل و غارت میں اضافہ یقینی ہے اوراس سے پاکستان کے ساتھ کشید گی میں بھی اضافہ ہوگا۔امریکی اخبار نے امریکا ، چین ، اقوام متحدہ اور دیگر طاقتوں پرزوردیا ہے کہ وہ بھارت کی حماقت کی وجہ سے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اورخطرناک بحران کو روکنے کے لیے بھارت اور پاکستان پر اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
کشمیر فائرنگ