امریکا کو اسامہ کا پتہ آئی ایس آئی نے دیا تھا،وزیراعظم

118

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک+خبرایجنسیاں ) وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی آئی ایس آئی کی جانب سے دی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔بی بی سی کے مطابق عمران خان نے یہ بات فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ سی آئی اے سے پوچھیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی نے ابتدا میں اسامہ کی موجودگی کا ٹیلی فونک لنک امریکا کو فراہم کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کو اپنا اتحادی سمجھتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ہم خود اسامہ بن لادن کو پکڑتے لیکن امریکا نے ہماری سرزمین میں گھس کر ایک آدمی کو ہلاک کر دیا۔عمران خان کے بقول اس وقت پاکستان امریکا کی جنگ لڑ رہا تھا اور اس واقعے کے بعد پاکستان کو شدید شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔ وزیراعظم نے کا کہنا تھا کہ اسامہ کے خلاف کارروائی میں امریکا کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی پر بات ہو سکتی ہے،صدر ٹرمپ سے ان کی بات چیت میں تو ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا تاہم مستقبل قریب میں اس بارے میں مذاکرات ہو سکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ یہ پاکستان میں یہ ایک بہت جذباتی مسئلہ ہے کیونکہ وہاں شکیل آفریدی کو امریکا کا جاسوس سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان افغانستان میں یرغمال بنائے گئے امریکی اور آسٹریلوی باشندوں کی بازیابی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے،ہمیں یقین ہے کہ ہم اس حوالے سے اگلے 48گھنٹوں میں کوئی خوشخبری سنائیں گے۔ عمران خان کے بقول بھارت جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے تو پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکا اورایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے کردارادا کرسکتا ہے ہم چاہیں گے کہ یہ تنازع جنگ کی شکل اختیار نہ کرے کیونکہ نہ صرف ہم اس سے متاثر ہوں گے بلکہ تیل کی قیمتوں پر بھی اس کا برا اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایران میں امن کے قیام کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ امریکا کو طالبان سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ افغان طالبان ایک مقامی گروہ ہے جو افغانستان سے باہر کوئی حملہ نہیں کرنا چاہے گا اور میرے خیال میں افغان حکومت کا طالبان کے ساتھ مشترکہ حکومت کا قیام امریکا اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے اچھا رہے گا ،اس حوالے سے خطرہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی امن معاہدہ نہیں کر پاتے تو دولت اسلامیہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔علاوہ ازیں واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وطن واپس پہنچ کر افغان طالبان سے ملاقات کروں گا اور انہیں مذاکرات کے لیے آمادہ کروں گا، امریکاسے امدادنہیں تعاون مانگاہے،مسئلہ کشمیرکاحل موجود ہے،کشمیریوں کی امنگوں کومدنظررکھاجائے۔انہوں نے کہا کہ آپ چاہیں یا نہ چاہیںامریکا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں پڑتے ہیں، افغان جنگ میں پہلا موقع ہے کہ امریکا اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں ،افغانستان کے حوالے سے بہت جلد امن معاہدہ کاامکان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت ،افغانستان اورایران سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں، ایران تنازع سے پیدا ہونے والی تباہی کا کسی کو اندازہ ہی نہیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آسیہ مسیح کے معاملے میں ایک گروپ نے بہت سے مسائل کھڑے کیے ، پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے تمام اقدامات کر رہے ہیں ۔
واشنگٹن، وزیر اعظم عمران خان سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ملاقات کررہے ہیں،شاہ محمود قریشی و دیگر بھی موجود ہیں