وکلاء عدلیہ بحالی کے بعد اپنی عزت بحالی کی تحریک چلائیں،چیف جسٹس

176

اسلام آباد (صباح نیوز) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ ماضی میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلی لیکن اب وکلا کی عزت کی بحالی کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ وکلا نے تیزی کے ساتھ عزت گنوا دی ہے ۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈ می میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے زیر تربیت وکلا میں سرٹیفکیٹس کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بددیانت اور دھوکا دینے والوں کی مقدس پیشے میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ آبزرویشن میڈیکل کے ایک طالب علم کے مقدمے میں دی تھی جس نے ناجائز طریقوں سے ڈگری حاصل کی تھی لیکن یونیورسٹی نے ان کی غلطیاں پکڑ کر ڈگری منسوخ کردی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر کا تعلق تو انسانی جسم سے ہوتا ہے لیکن وکیل کاتعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے اس لیے وکالت سے بڑھ کر زیادہ مقدس پیشہ کیا ہوگا جو عدالتوں میں دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلاکا دنیا میں کسی کا بھی مقابلہ کرنے کے لیے ان کی تربیت بہت ضروری ہے کیونکہ اہلیت تو ان میں ہے لیکن مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ مقابلہ کر نہیں پاتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے نظام میں تربیت کا بہت فقدان ہے، وکلا بہت ذہین ہیں، ان کو صرف ڈائریکشن چاہیے۔ انہوں نے تربیت حاصل کرنے والے وکلا پر زور دیا کہ وہ پیسے کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ لوگوں کی خدمت پر توجہ دیں پیسہ آپ کے پیچھے خود آئے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک وکیل کو قانون کے ساتھ ساتھ تاریخ، حساب اور ادب پر بھی عبور ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں دہشت گردی ہے اور منشیات ہے، 20 سال بعد جب صورتحال بہتر ہوگی تو وکیل آج کی تاریخ کی روشنی میں قوانین کو دیکھے گا کہ احتساب آرڈ یننس میں تو ضمانت کی شق ہی نہیں تھی۔ انہوں نے زیر تربیت وکلا پر اپنے پیشے کو عزت دینے زور دیا اور کہا کہ ہمیں عزت اسی پروفیشن سے ہی ملی ہے، وکلا اور جج کے درمیان عزت اور احترام کے راستے پر واپس آنا ہے، اگر وکیل جج کو کرسی مارتا ہے اور جج وکیل کو پیپر ویٹ تو ہمیں تحریک بحالی عزت وکلا شروع کرنا ہوگی۔ تقریب سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل حیات علی شاہ نے بھی خطاب کیا ۔