میگا کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے خاتمے کی حکمت عملی بنالی،چیئرمین نیب

115

اسلام آباد (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کرپشن معاشرے کا سرطان ہے، نیب کرپشن کو آہنی ہاتھوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں پرعزم ہے۔ اتوار کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ قومی احتساب بیورو نے سب کے لیے احتساب کی پالیسی کے تحت میگا کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے خاتمے کی حکمت عملی مرتب کی ہے۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ پاکستان کے عوام نے نیب کی کارکردگی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے میں 59 فیصد شہریوں
نے قومی احتساب بیورو کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سال 2018ء کی نسبت 2019ء میں نیب کی جانب سے شکایات، انکوائریز اور تحقیقات کی شرح میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ 19 ماہ کے دوران نیب کی کارکردگی شاندار رہی۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب راولپنڈی بیورو میں جدید ترین فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات کی فرانزک، فنگرپرنٹ کے تجزیے اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں جو انکوائریز اور تحقیقات میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (سی آئی ٹی) کا نیا تصور متعارف کرایا ہے جس میں سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس سے نظام کار میں نہ صرف بہتری آرہی ہے بلکہ نیب کے طریقہ کار میں مداخلت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے نیب نے چین کے ساتھ مفاہمت کی دستاویز پر دستخط بھی کیے ہیں۔
چیئرمین نیب