بیت المقدس سے رواں سال 900 فلسطینی گرفتار

91

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطین کے شہر مقبوضہ بیت المقدس میں گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران 900 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ رواں سال بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں کے خلاف صہیونی فوج کے کریک ڈائون اور بہیمانہ پکڑ دھکڑ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ مجموعی طورپر رواں سال اسرائیلی فوج نے غرب اردن، بیت المقدس، غزہ اور دوسرے علاقوں سے 2600 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا اصل ہدف قبلہ اول کے دفاع کے لیے فلسطینیوں کی دفاعی مہمات کو ناکام بنانا تھا۔ریاض الاشقر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ایک طرف بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون جاری رکھا اور دوسری طرف مسجداقصیٰ کے باب رحمت میں گھس کرمسلمانوں کے مقدس ترین مقامی کھلے عام بے حرمتی کی گئی۔قابض فوج نے غرب اردن میں قبلہ اول کے دفاع کے لیے سرگرم شخصیات کو بھی حراست میں لیا۔ ان میں محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر الشیخ عبدالعظیم سلہب، اوقاف کے نائب الشیخ ناجح بکیرات، سرکردہ رہنما الشیخ رائد دعنا کو 6 ماہ کے لیے بیت المقدس سے بے دخل کردیا گیا، جب کہ بیت المقدس میں اسیران کلب کے ڈائریکٹر ناصر قوس کو حراست میں لیا گیا۔ ریاض الاشقر نے بتایا کہ رواں سال اسرائیلی فوج نے بیت المقدس کے عیسویہ علاقے سے سب سے زیادہ فلسطینیوں کو حراست میں لیا، جہاں سے گرفتار ہونے والوں کی تعداد 295 تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ شعفاط کے مقام سے 130، سلوان سے 120، قدیم بیت المقدس سے 105 اور مسجد اقصیٰ سے 65 فلسطینیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ گرفتار ہونے والے 900 فلسطینیوں میں 300 بچے ہیں۔